قندیلیں

by Other Authors

Page 96 of 194

قندیلیں — Page 96

۹۶ حضرت اقدس نے پوچھا کیا بات ہے۔آپ کیوں روتے ہیں لیکن حضور جتنا پوچھتے آپ اتنا ہی زور سے رونے لگ جاتے۔آخر بار بار پوچھنے اور تسلی دلانے پر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور سب سے پہلے میں باؤلی شریف والوں کی خدمت کرتا رہا۔پھر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی خدمت میں رہا۔اس کے بعد پیر صاحب کو ٹھہ شریف کے پاس گیا۔اور اب حضور کا خادم اور مرید بنا ہوں۔خدا تعالیٰ کا مسیح آگیا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔لیکن میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اسلام کے لئے قربان کر سکوں (حالانکہ وہ غریب ہی اسی لئے ہوئے تھے کہ وہ احمدی ہو گئے تھے ، ہم سنا کرتے تھے کہ مسیح آئے گا اور خزانے لٹائے گا۔اور حضور نے جب خزانے لٹائے اور پھر کہنے لگے میں جھڈو کا جھڈو ہی رہا بیعنی اب تک ناکارہ کا اکارہ ہوں۔یہ کہہ کر پھر چیخ مار کر رونے لگے۔اس پر حضور نے نہایت شفقت و محبت سے فرمایا یہ آپ گھبرائیں نہیں اور کوئی فکر نہ کریں۔آپ نے جہاں پہنچنا تھا پہنچ گئے " الفضل ۱۴ مئی ۲۵ ) دو میں سے ایک شہتیر حضرت مولوی برہان الدین صاحب جن کے متعلق حضرت مسیح موعود کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ میری جماعت کے دو شہتیر ٹوٹ گئے ، اس پر آپ نے فرمایا ایک شہتیر مولوی برہان الدین صاحب تھے جن کی زندگی نہایت عسرت میں گزری تھی کئی مہینوں تک دیکھنے کو نہیں ملتا تھا۔کبھی کبھار کچھ نقدی آجاتی تو تلوں کا تیل استعمال کرتے کیونکہ وہ سنتا ہوتا تھا۔گوشت کہیں سے ہدیہ آجائے ورنہ وال پر ہی گزارہ