قندیلیں

by Other Authors

Page 77 of 194

قندیلیں — Page 77

፡፡ مگر حضور ان کے پاس تشریف نہ لے جاسکے د تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۴۲۲ - ۴۲۳) منہ کے بھو کے پھوٹ پھوٹ کر ویر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے۔میں اس واقعہ کو کبھی بھول نہیں سکتا کہ جب 1914ء میں مسٹر والٹر آنجہانی جو آل انڈیا وائی ایم سی ہے کے سیکوٹری تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لئے قادیان آئے تھے۔انہوں نے قادیان میں یہ خواہش کی کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحابی سے ملایا جائے۔اس وقت منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم قادیان آئے ہوئے تھے مسٹر والٹر کو منشی صاحب مرحوم کے ساتھ مسجد مبارک میں ملایا گیا۔مسٹر والٹر نے منشی صاحب سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔منشی صاحب نے جواب دیا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی جس سے زیادہ سچا، زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی ہیں تو ان کے منہ کا بھوکا ہوں۔مجھے تو زیادہ دلیلوں کا علم نہیں۔یہ کہ کر منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ان کے چہرے کا رنگ ایک دھلی ہوئی چادر کی طرح سفید پڑ گیا تھا۔اور بعد میں انہوں نے اپنی کتاب احمد یہ موومنٹ میں اس واقعہ کا