قندیلیں — Page 78
خاص طور پر ذکر کیا کہ میں شخص نے اپنی صحبت میں ایسے لوگ پیدا کئے اسے ہم دھوکہ باز نہیں کہہ سکتے۔(اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۷ ) خادمین کی ضرورت کا احساس حضرت ام ظاہر کی سیرت بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا ا مرا حم خلیے ایسے لکھتے ہیں کہ آپ خادموں کو پیٹ بھر کر کھلائیں۔فکر رہتا تھا کہ باورچی یا باور چن کسی کو بھوک سے کم نہ دے رہے ہوں۔ہمارا ایک بھینسوں کا نوکر ہوا کرتا ہے جو روٹی بہت کھایا کرتا تھا۔باورچن سے ایک دفعہ پو چھا کہ تم اسے پوری روٹی بھی دیتی ہو یا نہیں تو اس نے جواب دیا کہ ہاں میں اس کو سات یا آٹھ بھاری روٹیاں دیتی ہوں لیکن اس پر سستی نہ ہوئی اور خود باورچی خانے کے چک سے باہر بیٹھا کر اس کو روٹی کھلائی اور کہا کہ جب پیٹ بھر جائے تو بنا دیا۔اور اندر بیٹھ کر اس کی روٹیاں گنہیں کہ کتنا کھاتا ہے۔اس دن اس نے گیارہ روٹیاں کھائیں چنانچہ اس دن سے باور چن کو یہی حکم ہو گیا کہ آج سے اسے گیارہ روٹیاں دیا کرو۔سوائے اس کے کہ یہ خود واپس کردے۔د تابعین اصحاب احمد۔سیرت امم طاہر صفحہ ۲۲۷ - ۲۲۸) علالت کے باوجود روزہ داروں کی خدمت حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ مسیح کا حضرت امم طاہر صاحبہ کے متعلق بیان ہے کہ مجھے یاد ہے۔وفات سے ایک سال پہلے ڈلہوزی میں رمضان کے مہینہ میں باوجود بیماری کے حضور کے تمام عملہ کے لئے سحری کے وقت خود ہاتھ سے پراٹھے پکایا کرتی تھیں