قندیلیں — Page 76
<4 اماں جان نے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں حضرت صاحب نے فرمایا۔اچھا ئیں جاتا ہوں۔مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا۔ہاں آخر حضرت صاحب نے پگڑی منگوا کر سر پر رکھی۔وہ ادھر جانے لگے ہیں سیڑھیاں چڑھ کر آگے چلی گئی۔جاکر مولوی صاحب کو اطلاع دی۔تو انہوں نے الٹا مجھے ملامت کی کہ تم نے حضرت صاحب کو کیوں تکلیف دی۔کیا ئیں نہیں جانا کہ وہ کیوں تشریف نہیں لاتے ہیں نے کہا آپ نے خود تو کہا تھا انہوں نے کہا کہ وہ تو میں نے اپنا دکھڑا ر دیا تھا۔تم فوراً جاؤ۔حضرت صاحب سے عرض کرد که تکلیف نہ فرمائیں نہیں بھائی گئی تو حضرت صاحب سیڑھیوں کے نیچے کھڑے اوپر آنے کی تیاری کر رہے تھے۔میں نے عرض کیا حضور آپ تکلیف نہ فرمائیں۔یہ تو مولوی عبد الکریم صاحب کے عشق دندائیت کا عالم تھا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود نے ان کی بیماری کے دوران میں علاج اور توجہ میں جو نمونہ قائم کیا۔وہ انبیاء علیہم السلام کی ذات میں تو نظر آتا ہے لیکن کسی اد انسان میں دکھائی نہیں دیتا۔صبح و شام حضرت مسیح موعود مولوی صاحب کے لئے دعاؤں میں گویا وقف تھے۔مولوی صاحب جس چیز کے کھانے کی خواہش کرتے یا جس دوائی کی ضرورت ہوتی فورا آدمی بھیج کر لاہور یا امرتسر سے منگوا دیتے حضورنے علاج معالجے کے لئے بے دریغ روپیہ خرچ کیا۔اور کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ گئی جس کی نسبت خیال ہوا ہو کہ مولوی صاحب کے لئے مفید ہوگی ان کے لئے ہم نہ پہنچائی گئی ہو۔حضرت اقدس مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے۔اکثر مسجد میں فرماتے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر ان کی تکلیف میں دیکھ نہیں سکتا۔چنانچہ آخر مولوی صاحب اس مرض میں فوت ہو گئے