قندیلیں — Page 158
106 اظہار تشکر حضرت امام حسن علیہ السلام ایک دفعہ کھجوروں کے باغ میں گزرے تو دیکھا کہ ایک حبشی غلام روٹی کھا رہا ہے لیکن اس طرح کہ ایک خود کھاتا ہے اور دوسرا کتے کے آگے ڈال دیتا ہے حتی کہ آدھی روٹی کتے کو کھلا دی۔آپ نے اس سے پوچھا کہ کتے کو دھتکار کیوں نہیں دیتے۔اس نے کہا۔مجھے شرم آتی ہے۔آپ نے اس کے آقا کا نام دریافت کیا اور اس سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آؤں نہیں رہنا۔وہ تو وہیں کام کرتا رہا اور آپ اس کے آقا کے پاس پہنچے۔اور باغ اور غلام دونوں چیزیں اس سے خرید کر واپس آئے۔اگر غلام سے فرمایا کہ میں نے تمہیں مع اس باغ کے تمہار ہے آقا سے خرید لیا ہے اور تمہیں آزاد کر کے یہ باغ تمہارے نام کرتا ہوں۔غلام نے یہ بات سنی تو کہا کہ آپ نے جس خدا کے لئے مجھے آزاد کیا ہے اسکی راہ میں یہ باغ صدقہ کرتا ہوں۔ر الفضل ۲۷ اگست ۶۱۹۹۴ ) لا أَدْرِى حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب بعض امور کے متعلق دریافت کیا جاتا کہ ان کی حقیقت کیا ہے تو آپ لا آذری “ یعنی میں نہیں جانتا فرماتے کسی نے آپ سے کہا کہ آپ امام کس چیز کے ہیں اور کیسے ہیں کہ ولا آذری کا آذری کہے جاتے ہیں تو آپ۔۔۔نے فرمایا کہ میں امام اس بات کا ہوں کہ جس بات کا مجھے علم ہوتا ہے اسکو میں بیان کرتا ہوں اور جس کا مجھے علم نہیں