قندیلیں — Page 159
۱۵۹ ہوتا اسکے متعلق میں لا ادری کہتے ہوئے اپنی تنگ محسوس نہیں کرتا۔دیات قدرتی حصه چهارم شنا سخاوت کا انداز حضرت اسما بیت ابو بکر ان کے متعلق تاریخ اسلام میں آتا ہے کہ جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر حضرت زبیر بالکل غریب تھے اس لئے انہیں نهایت تنگی سے گزر اوقات کرنی پڑتی۔مگر اس نگی نے کوئی تنگدلی نہیں پیدا کی تھی۔ان کی بہن کے ترکہ میں سے ایک جائیداد آئی۔جسے فروخت کرنے سے ایک لاکھ درہم وصول ہوئے جس شخص نے مالی مشکلات کا مقابلہ کیا ہو اور تنگدستی میں مبتلا رہ چکا ہو۔ہاتھ میں کوئی رقم آنے پر طبعاً ا سے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے لیکن انسانی فطرت کے برعکس حضرت اسماء نے یہ ساری رقم اپنے غریب اور محتاج عزیزوں پر خرچ کر دی۔(الفضل ۲۷ اگست ۱۱۹۹۴) عظمت کا مینار مکرم احمد سعید کرمانی سابق وزیر خزانہ سابق صدر ہائیکورٹ فرماتے ہیں کہ میں چھٹی ساتویں کلاس کا طالب علم تھا۔چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۳۷-۱۹۳۶ میں ہندوستان کی مرکزی حکومت میں وزیر ریلوے تھے۔ان دنوں مرکزی وزراء کا عہدہ نمبر وائسرائے ایگزیکٹو کونسل کہلاتا تھا۔چوہدری صاحب کی بھر پور صحت کے ایام تھے نہیں بذریعہ ٹرین امرتسر سے لاہور جارہا تھا جبکہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب دہلی سے لاہور آ کہ ہے