قندیلیں — Page 157
۱۵۷ گے۔میں نے بیوی سے کہا یہ خدا کا بھیجا ہوا رزق ہے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیئے حافظ صاحب نے آٹھ روٹیاں عنایت کیں اس کے بعد ایک روپیہ نکال کر آپ نے میری طرف کیا۔اور کہا یہ پیسے بھی لے لو۔میں نے بہت زور سے منع کیا آپ نا بانتا ہیں ہم کو آپ کی خدمت کرنی چاہیئے۔اس سے معاف فرمایا جائے تو آپ نے اس قدر اصرار سے کہا کہ منظور کر لو۔اب رو کرنا اچھا نہیں۔میں نے اس کو بھی خدائی امداد سمجھ کر رکھ لیا اور آئندہ کے لئے حافظ صاحب کو روکا کہ ایسا نہ کیا کریں۔آپ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جو مجھ سے کرواتا ہے کرتا ہوں۔آپ کیوں منع کرتے ہیں۔میں نے صبح اٹھ کر روپیہ تڑوا کر میاں نبی بخش معمار کو دو آنے بھجوادیے مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔دوبارہ بھیجے پھر بھی انکار کیا۔سہ بارہ خود لے کر گیا۔انہوں نے ہاتھ میں لے کو پھر واپس کر دیئے کہ اس نیت سے نہیں دیتے تھے۔اصحاب احمد جلد ۱۳ - الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۵ء صفحه ۳) چو ہے ہی چوہے حضرت سعد بن عبادہ کے پاس ایک مرتبہ ایک ضعیفہ آئی اور کہا کہ میرے گھر میں چو ہے نہیں ہیں جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اناج وغیرہ کچھ نہیں ہے۔کیونکہ چو ہے وہیں ہوتے ہیں جہاں اناج وغیرہ ہو۔آپ نے اس کی یہ بات سن کر کہا۔اچھا جاؤ۔اب تمہارے گھر میں چو ہے ہی چو ہے نظر آئیں گے۔چنانچہ آپ نے اس کا گھر غلہ ، روغن اور دوسری خوردنی چیزوں سے بھر دیا۔والفضل ۱۷ اگست ۱۹۹۴ء)