قندیلیں

by Other Authors

Page 146 of 194

قندیلیں — Page 146

104 کو ایک دن آپ کی طبیعت کچھ خراب تھی۔آپ نے ڈاکٹر حشون انتھا میں کہا کہ میں آج دریا پر نہ جا سکوں گا۔آپ مبارک کو شکار کے لئے لے جائیں ہم دریا پر پہنچے۔کشتی پر سوار تھے کہ ہمارے اوپر سے دو منگ“ (بڑی مرغابی اتنے ہوئے جا رہے تھے۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ کہ اگر آپ ان دونوں کو گرائیں تو میں آپ کو ایک روپیہ انعام دوں گا ڈاکٹر صاحب نے فائر کیا اور وہ دونوں نیچے آگر ہے۔شام کو واپس گھر آئے تو ایک روپیہ کا وعدہ بھول گیا تھا۔مگر ڈاکٹر صاحب بھولنے والے نہ تھے۔دو تین دن کے بعد ابا جان کو کہا کہ میاں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں قاز گوالوں تو مجھے ایک روپیہ انعام دیں گے انہوں نے ابھی تک مجھے روپیہ نہیں دیا۔جب آپ گھر کے اندر تشریف لائے تو مجھے بلا کر فرمایا کہ تم نے جو ڈاکٹر صاحب سے وعدہ کیا تھا۔پورا نہیں کیا۔یہ جائز نہیں یا وعدہ نہ کرو۔یا پھر اس کو پورا کرو۔اسی وقت اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر مجھے دیا کہ ابھی جاکر ڈاکٹر صاحب کو دو۔روزنامه العقل صفحه ۴ ۵ جنوری ۱۹۹۵ء) خدمت خلق میں طمانیت حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ طبیب کا کام صرف دوا دنیا ہی نہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ دعا بھی کرے۔کیونکہ دوا تو انسانی اسکل ہے۔ٹھیک بیٹے یا نہ بیٹھے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔لیکن اگر اس کے ساتھ دکھا بھی ہو تو تدبیر کو تقدیر کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنا فضل کر دیتا ہے۔چنانچہ حضرت ماسٹر محمد طفیل صاحب