قندیلیں — Page 147
۱۴۷ کا یہی طریق تھا۔کہ وہ اس طرح دوا دیا کرتے تھے۔دوا دیکر خوش ہوتے حالانکہ بعض حالات میں ان کے اپنے گھر میں کوئی شخص مر یقین ہے بلکہ ایک دفعہ ایک وفات بھی ہوئی تو جو لوگ دوائی لینے آئے تھے انہیں خوشی سے دوا دی گئی امکان تو یہ تھا کہ اس دن دوا نہ بھی دی جاتی اگر گھر میں جنازہ پڑا ہو۔الفضل ۱۷ نومبر ) 51990 متوکل اور پر اعتماد خاتون کی دعا مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۹۲۴ء میں فصل آباد البیت الاحمدیہ کی افتتاحی تقریب تھی حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی اس با برکت تقریب کے موقع پر تشریف لا رہے تھے۔چونکہ حضرت امام جماعت کی تشریف آوری کا پروگرام تھا۔اس لئے احباب جماعت میں بڑا جوش و خروش تھا۔اور تمام احباب انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔تاریخ مقررہ پر حضرت امام جماعت الثانی نے قادیان سے تشریف لا کر بڑی رقت آمیز اور پرسوز دعاؤں کے ساتھ افتتاح فرمایا۔جس دن امام جماعت احمدیہ کا علی الصبح واپسی کا پروگرام تھا۔رات عشاء کے وقت محترم ڈاکٹر محمد شفیع صاحب میرے پاس تشریف لائے۔وہ ان دنوں جڑانوالہ میں شفا خانہ حیوانات کے انچارج ڈاکٹر تھے اور بعد ازاں حضور کی خدمت میں جڑانوالہ تشریف لے جانے کے لئے درخواست کی اور ساتھ ہی چائے کی دعوت قبول کرنے کے لئے عرض کیا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔دیر ہو جائے گی۔اور میرا تجربہ ہے کہ یہ پندرہ منٹ کئی گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے یقین دلایا کہ وقت کی پابندی کریں گے۔بہر حال حضرت صاحب نے منظوری عطا