قندیلیں — Page 145
۱۴۵ تھے وہ انگلستان کا بنا ہوا ڈوھرٹی " تھا۔جو اس زمانہ میں اچھا سمجھا جاتا تھا۔اپنی دنوں اباجان نے ایک ڈوھرٹی ریکٹ میرے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد صاحب کو دیا۔مجھے جب اس کا علم ہوا تو میں نے ایک ملازمہ کے ہا تھ ابا جان کو خط لکھ کر بھیجوایا کہ آپ نے بھائی کو ریکٹ منگوا کر دیا ہے۔مجھے نہیں دیا۔مجھے حدیث یاد ہے جس میں ذکر ہے کہ کسی صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اپنے بڑے بیٹے کو گھوڑا لے کر دیا ہے۔اس پر رسول کریم نے استفسار فرمایا کہ دوسرے بیٹے کو بھی دیا ہے ؟ صحابی کے جواب دینے پر کہ صرف بڑے کو دیا ہے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو فرمایا کہ یا تو دوسرے بیٹے کو بھی خرید کر دو یا جس کو دیا ہے اس سے بھی گھوڑا واپس لے لو۔یہ نا انصافی ہے۔ملازمہ واپس آئی تو میں نے پوچھا کہ آتا جات نے کیا جواب دیا ہے۔وہ کہنے لگی کہ آپ نے خط پڑھد کر ر کھ لیا ہے کیا کچھ نہیں۔اگلے ہی روز آپ دفتر سے گھر واپس آرہے تھے اور ہاتھ میں ایک ڈو حصر ٹی ریکٹ" پکڑا ہوا تھا۔میرے پاس آکر مجھے ریکٹ دیکر کہا۔کو یہ ہے تمہارا ریکٹ نہیں نے لاہور آدمی بھیجوا کر تمہارے لئے منگوایا ہے۔7990 د روزنامه الفضل صفحه ۵ - ۵ جنوری ۰ ) وعدہ پورا کرو مکریم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ہر سال جلسہ سالانہ کے بعد آپ (حضرت مصلح موعود ) دو اڑھائی سفینہ کے لئے بیاس دریا پو شکار کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔جلسہ سالانہ کی مصروفیت جو روزانہ 19 گھنٹے سے کم ہوتی تھی کا تقاضا تھا کہ جلسہ کے بعد کچھ آرام اور صحت مند تفریح بھی ہو جائے۔