قندیلیں

by Other Authors

Page 114 of 194

قندیلیں — Page 114

اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے گیا جبکہ مولانا جلال الدین شمس وہاں تھے۔چوہدری ظفر الله خان صاحب اپنے چھوٹے بھائی محترم عبد اللہ خان صاحب مرحوم امیر جماعت احمدیہ کراچی کو ٹانگ کے اپریشن کے لئے وہاں لائے۔جنگ عظیم کے بعد کا زمانہ تھا ہپستال بھرے پڑے تھے چوہدری صاحب نے دوستوں سے رابطہ پیدا کر کے کسی ہسپتال میں داخلہ کی کوشش کی مگر منزل قریب نہ آئی۔چوہدری عبداللہ خاں صاحب کو تکلیف زیادہ تھی۔ایک روز چوہدری صاحب غیر متوقع طور پر تشریف لائے۔انتہائی خوش تھے۔اور بار بار اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہے تھے۔اور محترم شمس صاحب نے پوچھا اس خوشی کی کیا وجہ ہے۔فرمایا۔رات مایوسی کی حالت میں بڑی دنیا کا موقع ملا۔میں نے سُن رکھا تھا روچمنٹن میں ایک ہسپتال ہے جہاں ٹوٹے ہوئے اعضاء کا علاج ہوتا ہے۔اور مصنوعی اعضاء بھی لگائے جاتے ہیں۔میں بغیر واقفیت کے وہاں چلا گیا۔سارا راستنه درود شریف پڑھتا رہا۔ڈاکٹر کو اب تک علاج کی رپورٹ دکھائی۔ڈاکٹر رپورٹ دیکھ رہا تھا اور میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا رہا ڈاکٹر نے سر اٹھایا اور کہا۔Sir Zafarullah although hard pressed I will admit your brother میں نے شکر ادا کیا اور کمرہ سے باہر نکل کر لان میں سجدہ شکر بجالا یا حضرت چوہدری صاحب دوستوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے طور پر اپنے بھائی کے ہسپتال میں داخلہ کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے۔دوستوں کا سہارا کام نہ آیا مگر آنحضور پر درود بھیجنے کی برکت سے مشکل مرحلہ آسان ہو گیا۔کئی دفعہ خطبات جمعہ میں بھی احباب کو تلقین کیا کرتے تھے کہ انسان کام میں مصروف ہوتے