قندیلیں

by Other Authors

Page 113 of 194

قندیلیں — Page 113

١١٣ چیت کرنے والا نہ تھا۔تو مولوی فضل دین صاحب نے اس وقت کو غنیمت سمجھا کہ آج استاد کی نصیحت پر عمل کریں۔چنانچہ وہ کلام الہی لے کر پڑھنے بیٹھ گئے۔ان کے استاد صاحب نے منہ سے کپڑا اٹھالیا اور پڑھاتے پڑھاتے جوش میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے۔خوب پڑھو پڑھاتے پڑھاتے جب اور جوش میں آگئے تو فرمانے ١٩٩٤ء لگے۔فی الواقع کلام الہی شفاء للناس ہے۔(روز نامہ الفضل صفحه ۵ - ۲۱ دسمبر ) انکسار کا عالم حضرت مہر آیا صاحبہ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے ذکر میں فرماتی ہیں۔" حضرت فضل عمر کے سفر یورپ میں آپ تمام وقت حضور کے ساتھ ساتھ رہے۔حضور کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے کیونکہ وہاں ہمارے ہاں کی طرح قلی وغیرہ نہیں۔روانگی سے پہلے چودھری صاحب بہت اصرار کے ساتھ پیغام بھجواتے رہے کہ سامان تھوڑا لے جائیں۔وہاں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔دورانِ سفر جیب و نیں (اٹلی) پہنچے تو وہاں نہ کوئی تلی تھا نہ کوئی مزدور - حضرت چودھری صاحب نے تمام سامان اپنے کندھوں پر اٹھا اُٹھا کر کار سے گنڈوئے تک پہنچایا اور فرمایا۔دیکھا ئیں نہ کتنا تھا کہ اس قدر سامان نہ لے جائیں۔خیر بیبیوں کو پتہ تھا۔ظفر اللہ ساتھ ہے۔خود اٹھاتا پھر لیگا۔آپ کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ اتنی بڑی شخصیت اور انکسار کا یہ عالم کا ر خالد۔حضرت چوہدری صاحب نمبر ص۳۲ ) درود شریف کی برکت محترم ظہور احمد صاحب باجوہ لکھتے ہیں کہ میں دسمبر ۱۹۴۵ء میں انگلستان