قندیلیں — Page 70
،جاپان ، روس ، امریکہ، افریقیه۔۔۔۔۔۔وغیرہ میں آباد ہیں۔۔۔ہم ان تک ، حضرت مسیح موعود کا پیغام پہنچائیں اور خوشی سے اچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھاؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ تو فوت ہو گئے ہیں تو وہ پوچھیں۔اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں تو ہم انہیں کہیں گے کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔احمدیوں کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے۔اگر ایسا ہو تو ہمارے داعیان الی اللہ کو کیسی حضارت سے دیکھیں گے کہ ان نالائقوں نے ہم تک پیغام پہنچانے میں کس قدر دیر کی ہے تو ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیئے تا ہر ایک کہہ سکے کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے رفقاء سے مصافحہ کیا ہے۔یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اس سے ہمیں دنیا کو محروم نہیں رکھنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " یہ تو حالت تنزل ہے جب لوگ آپ سے ملنے والوں کو ڈھونڈیں گے اور کوئی نہ ملے گا تو کہیں گے اچھا کپڑے ہی سہی۔۱۹۳۵ الفضل ۱۷ر اپریل ۳۵ ص ۷۶ کافر تہجد پڑھ رہا تھا مکرم جناب بشارت احمد صاحب جوئیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل بیان کرتے ہیں کہ ایک بریگیڈیئر جن کا نام مصلحتاً نہیں بتایا جارہا نے نکوبتایا کہ سواء میں ان کو رات کے وقت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو جو اس وقت لاہور میں پرنسپل تعلیم الاسلام کالج تھے رتن باغ کی عمارت سے گرفتار کرنے کے لئے وارنٹ دیئے