قندیلیں — Page 71
<1 گئے۔یہ افسر وقت مقررہ پر رتن باغ گئے تو انہوں نے مکان کی دوسری منزل کے ایک کمرہ سے پردوں سے نکلتی ہوئی روشنی کو دیکھ کر کچھ تعجب کا اظہار کیا گھنٹی بجائی۔ایک خادم پانچ منٹ کے اندر اندر نیچے اترا جب حضرت صاحب کے متعلق معلوم کیا کہ کیا کر رہے ہیں تو جواب ملا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔پھر سنبھلے بہت جلد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب حضور کو وارنٹ گرفتاری دکھائے تو حضور نے فرمایا اگر اجازت ہوتیں اٹیچی کی لے لوں پھر گھر والوں کو خدا حافظ کہا اور ساتھ چل پڑے۔اسی افسر کو دو ایک روز بعد ایک بڑے عالم دین کی گرفتاری کے وارنٹ ملے۔وقت گوفتاری تقریباً پہلے والا۔ان کے گھر پہنچے۔گھنٹی اور دروازہ کھٹکھٹاتے رہے مگر کافی دیر تک کوئی جواب نہ ملا۔کافی وقت کے بعد ایک نوکر آنکھیں ملتا ہوا آیا۔جب مولانا کے متعلق معلوم کیا تو جواب ملا سو رہے ہیں کافی تگ و دو کے بعد مولانا سے ملاقات ہوئی۔جب وارنٹ گرفتاری دکھائے تو اسلامی اور غربی اصطلاحات میں کو سنے لگے۔بڑی بحث مباحثہ کے بعد ان مولانا کو گاڑی میں لے چلے تو یہ بریگیڈیر دل ہی دل میں سوچتے کہ ایک کافر تو تہجد پڑھ رہا تھا۔اور تو کل کا اعلیٰ نمونہ خاموشی سے پیش کرتا گیا۔دوسری طرف بزعم خود یہ عالم دین محمل ، توکل اور بردباری سے قطعاً عاری۔تاریخ احمدیت جلد شانزدهم صفحه ۲۵۴ ۲۵۰ مؤلفه دوست محمد شاید ) -