قندیلیں

by Other Authors

Page 69 of 194

قندیلیں — Page 69

49 سکتا۔اس زمانہ میں فلاں سکھ ہے جو گزر سکتا ہے۔مسلمانوں میں کوئی ان کا مقابلہ کرنے والا نہیں۔وہ وہیں ٹھہر گئے اور کہنے لگے کہ اچھا۔ایک سکھ ایسا کام کرتا ہے کہ کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔اب جب تک میں اس دریا کو پار نہ کرلوں گا میں میاں سے نہیں ملوں گا چنانچہ انہوں نے وہیں تیرنے کی مشق شروع کر دی۔اور چار پانچ مہینہ میں اتنے مشاق ہو گئے کہ تیر کو پار گزرے اور پار گزر کر بتادیا کہ سکھ ہی اچھے کام والے نہیں بلکہ مسلمان بھی تعیب چاہیں ان سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ۲۵۶) رنگ اخلاص فدائیت حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی فرماتے ہیں کہ " ایک بوڑھا انگریز تو مسلم تھا۔اسے علم تھا۔پھر بھی وہ نہایت محبت و اخلاص سے کہنے لگا کہ میں ایک بات پوچھتا ہوں۔آپ ٹھیک جواب دیں گے۔میں نے کہا ہاں۔تو اس نے کہا۔اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگا۔آپ قسم کھا کو بتائیں کہ آپ نے انہیں دیکھا۔میں نے کہا ہاں۔میں ان کا بیٹا ہوں۔اس نے کہا نہیں۔آپ میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا میں نے کہا ہاں دیکھا۔تو وہ کہنے لگا۔اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں۔اور مصافحہ کرنے کے بعد کہا مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھوا۔جس نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھوا تھا۔اب تک وہ نظارہ میرے دل پر نقش ہے۔۔۔۔۔اسے رویا و کشوف بھی ہوتے تھے۔مجھے اس خیال سے بھی گھیرا ہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو کہ چین