قندیلیں

by Other Authors

Page 65 of 194

قندیلیں — Page 65

اسے میں چھوڑ کر جہاد کے لئے روانہ ہوتے تھے تو گھر والوں کو یہ بھی خطرہ ہوتا تھا نہ معلوم وہ واپس آتے ہیں یا شہادت کا مرتبہ پا کو ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔بچے یتیم اور بیوی بیوہ ہوتی ہے لیکن آنحضرت کی بعثت ثانیہ میں ہم سے اور ہمارے اہل وعیال سے نرم سلوک کیا گیا ہے اور ہمیں قتال اور حرب در پیش نہیں بلکہ زندہ سلامت آنے کے زیادہ امکانات ہیں۔پس آپ کو اس نرم سلوک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا چاہیے۔اس پر میری بیوی خاموش ہو گئی اور میں گھر سے نکلنے کے لئے دروازے کی طرف بڑھا۔اس حالت میں میں نے اللہ کے حضور عرض کیا کہ اے میرے محسن خدا تیرا یہ عاجز بندہ تیرے کام کے لئے روانہ ہو رہا ہے اور گھر کی بات تجھ پر مخفی نہیں۔تو خود ہی ان کا کفیل ہو اور ان کی حاجت روائی فرما۔تیرا یہ عبد حقیر ان افسردہ دلوں اور حاجت مندوں کے لئے راحت و مسرت کا کوئی سامان مہیا نہیں کر سکتا۔میں دعا کرتا ہوا ابھی بیرونی دروازے تک پہنچا کہ باہر سے کسی نے بتک دی جب میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ایک صاحب کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے بلا کر یکصد روپیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آپ کے ہاتھ میں دے کر عرض کیا جائے کہ اس کے دینے والے کے نام کا کسی سے ذکر نہ کریں۔میں نے وہ روپیہ لے کر اپنی صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور کہا کہ ہمیں تو اب تبلیغی سفر کے لئے نکل پڑا ہوں۔بازار سے گھر جانا مناسب نہیں۔اب میں نے جو کچھ بازار سے ضروری سامان خور و نوش لینا ہے وہ میرے گھر پہنچا دیں۔وہ صاحب بخوشی میرے ساتھ بازار گئے۔میں نے ضروری سامان خرید کر ان کو گھر لے جانے کیلئے دے دیا۔اور بقیہ رقم متفرق اخراجات اور ضروریات کے لئے ان کے ہاتھ گھب بھجوادی - فالحمد لله على ذلك رحیات قدمی حصہ چہارم صفحه ۴-۵)