قندیلیں

by Other Authors

Page 64 of 194

قندیلیں — Page 64

۶۴ تبدیل کرتا رہا۔اور میرا منشا یہ تھا کہ میں پونڈ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پیش کروں گا۔مگر جب دل کی آرزو پوری ہو گئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو۔یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگے۔آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرے کو اس طرح ختم کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود کی وفات ہوگئی۔ر اصحاب احمد جلد چہارم۔سیرت ظفر صفحه (۶۵) اللہ اپنے بندوں کیلئے کافی ہے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان مقدس میں تھا۔اتفاق سے گھرمیں اخراجات کے لئے کوئی رقم نہ تھی۔اور میری بیوی کہہ رہی تھیں کہ گھر کی ضروریات کے لئے کل کے واسطے کوئی رقم نہیں۔بچوں کی تعلیمی فیس بھی ادا نہیں ہو سکی سکول والے تقاضا کر رہے ہیں۔بہت پریشانی ہے۔ابھی وہ بات کہہ ہی رہی تھیں کہ دفتر نظارت سے مجھے حکم آگیا کہ دہلی اور کو نال وغیرہ میں بعض جلسوں کی تقریب ہے۔آپ ایک وفد کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو کر ا بھی دفتر آئیں۔جب میں دفتر جانے لگا تو میری اہلیہ نے پھر کہا کہ آپ لمبے سفر پر جارہے ہیں اور گھر میں بچوں کے گزارا اور اخراجات کے لئے کوئی انتظام نہیں ہیں ان چھوٹے بچوں کے لئے کیا انتظام کروں ؟ میں نے کہا میں سلسلہ کا حکم ٹال نہیں سکتا اور جانے سے ترک نہیں سکتا۔کیونکہ میں تھے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔صحابہ کرام جب اپنے اہل و عیال کو گھروں میں بے سرو سامانی کی حالت