قندیلیں

by Other Authors

Page 66 of 194

قندیلیں — Page 66

۶۶ اہی فرستادوں سے گستاخی پر پکڑ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود پر جب کرم دین والا مقدمہ چلا تو مجسٹریٹ ہندو تھا۔آریوں نے دورغلایا اور کہا کہ وہ ضرور کچھ نہ کچھ سزا د سے اور اس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ بات سنی تو ڈر گئے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں گورداسپور حاضر ہوئے جہاں مقدمہ کے دوران آپ ٹھہرے ہوئے تھے۔اور کہنے لگے کہ حضور با بڑے فکر کی بات ہے۔آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود لیٹے ہوئے تھے۔آپ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خواجہ صاحب! خدا کے شیروں پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے۔میں خدا کا شیر ہوں وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دو مجسٹریٹ تھے جن کی عدالت میں یکے بعد دیگرے یہ مقدمہ پیش ہوا اور دونوں کو سخت سزا ملی۔ان میں سے ایک تو معطل ہوا اور ایک کا بیٹا دریا میں ڈوب کر مر گیا اور وہ اس غم میں نیم پاگل ہو گیا۔اس پر اس واقعہ کا اتنا اثر تھا کہ ایک دفعہ میں دہلی جارہا تھا کہ وہ لدھیانہ کے اسٹیشن پر مجھے میلا اور بڑے الحاج سے کہنے لگا کہ دعا کریں اللہ مجھے صبر کی توفیق دے۔مجھ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں پاگل نہ ہو جاؤں ( تفسير كبير سورة النور صفحه ۳۴۳)