قندیلیں

by Other Authors

Page 122 of 194

قندیلیں — Page 122

۱۲۴ بھی تو آپ کو سُن لینی چاہیئے۔اس پر وہ مزید بحث میں الجھنے کی کوشش کرنے لگا۔آپ نے اسے فرمایا کہ آپ مجھے اس لئے تبلیغ کر رہے ہیں کہ آپ کا عقیدہ ہے کہ میں اسے قبول کر کے جنت میں چلا جاؤں گا۔کیا آپ پوپ صاحب سے اس امر کی گارنٹی دلوا سکتے ہیں کہ میں عیسائی عقیدہ کو قبول کر کے ضرور جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔میں نے جس عقیدہ کو قبول کیا ہے اور جس وجود پر ایمان لایا ہوں اس کے ذریعہ مجھے بشارت ملی ہے کہ جو شخص رسالہ تو میت کی شرائط کو پورا کرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان شرائط کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔مجھے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس بشارت کی روشنی میں اپنے جنتی ہونے ہیں کوئی شک و شبہ نہیں۔آپ نے یہ بات اس وثوق اور اس یقین سے کہی کہ اس پر وہ ایک لفظ بھی مزید نہ کہہ سکا۔الفضل ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۵ء صفحه ۳ ) صرف دس پیسے چوہدری عبدالحق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب چھوٹی چھوٹی بات کو بھی بہت ہی اہمیت دیتے تھے۔ایک دفعہ ایک ملازم نے جو پشاور کے پٹھان تھے کہا کہ ایک دفعہ چوہدری صاحب کے کچھ پیسے جیب سے گر پڑے۔کہتے ہیں چوہدری صاحب نے فرمایا یہاں کچھ پیسے گرتے ہیں بہین نے ڈھونڈنا شروع کیا۔صرف دس پیسے ملے تو آپ نے فرمایا۔دس پیسوں کو آپ کیا سمجھتے ہیں۔آپ پشاور کے رہنے والے ہیں۔دس پیسے کا کارڈلو۔اس پر اپنے حالات لکھ کر ارسال کر دو۔کراچی سے پشاور تک آپ کے حالات بتائے گا۔وہ ملازم کہتا تھا کہ