قندیلیں

by Other Authors

Page 123 of 194

قندیلیں — Page 123

میں بہت شرمندہ ہوا۔١٢٣ ١٩٩٥ والفضل ۲۶ اکتوبر انه صفحه ۴) باز پرس بھی رحمدلی کبھی مکرم شاہد احمد خان صاحب ابن حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ لاہور گئے۔کار کا ڈرائیور چند دن پہلے ہی ہماری ملازمت میں آیا تھا آپ نے اسے بہت سا روپیہ اخراجات کے لئے دیا اور آپ کی اجازت سے وہ ہمار کی ضروریات پر روپیہ خرچ کرتا تھا لاہور سے مراجعت پر اس نے جو حساب دیا تو تقریباً اس میں سو روپے کا عین تھا چنانچہ آپ کے سختی سے پوچھنے پر اس نے تسلیم بھی کر لیا۔اس پر آپ نے اسے سخت سست کہا کہ اگر شام تک تم حساب پورا نہ کرو گے تو میں تمہارا معاملہ پولیس کے سپرد کروں گا۔چنانچہ وہ چلا گیا اور شام کو وہ روپے لے کر کہیں سے آگیا۔آپ اس وقت باغ میں ٹہل رہے تھے اور پاس ہی میں کھیل رہا تھا جب اس نے روپیہ آپ کو دیا تو میں نے دیکھا کہ روپیہ چھوٹے چھوٹے نوٹوں کی شکل میں تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ روپیہ جگہ جگہ سے مانگ کر لایا تھا۔آپ نے روپیہ لے لیا اور اسے کہا کہ تم نے نہایت ہی گندی حرکت کی ہے اگر ضرورت تھی تو مجھ سے مانگ لیا ہوتا۔ایسی اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی سزا یہ ہے کہ تم نوکری سے تاریخ ہو اور ابھی نکل جاؤ۔ابھی والد صاحب نے بات پوری نہیں کی تھی کہ وہ روپڑا اور کہنے لگا نواب صاحب میں بیوی بچوں والا ہوں۔ضرورت انسان کو بہت گرے ہوئے کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔آپ