قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 131 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 131

قدرت ثانیہ کا دور اول خلافت کا صحیح مقام خلافت اور انجمن کی کشمکش خلافت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جو خلیفہ اللہ اور خلیفہ النبی کی صورت میں دنیا پر نازل ہوتا ہے۔خلیفہ کے معنی ہیں (1) قائم مقام (2) جانشین (3) حاکم اعلیٰ یا شہنشاہ (4) نائب ( اقرب) اور خلیفہ کے شرعی معنی ہیں الامام الذی لیس فوقہ امام (اقرب) اس لئے حضرت عمر نے خلیفہ مقرر ہونے پر فرمایا: الحمد الله الذي صیّر نی لیس فوقى احد“ الطبقات الكبرى للشعرانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر (18) خلافت کے انعام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان پیش خبری ہے فرماتے ہیں۔تكون النبوة فيكم ماشاء الله۔۔۔ثم تكون الخلافه على منهاج النبوة ماشاء الله۔۔۔۔۔۔ثم تكون ملكا عاضاً فتكون ماشاء الله۔۔۔۔۔۔ثم تكون الخلافة على منهاج النبوة (مشكوة ابواب الفتن) اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس فرمان نبوی سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی خلافت علی منہاج النبوت ختم ہو جانے کے بعد ایک دفعہ پھر امتی نبوت قائم ہوگی اور اس کے بعد منہاج النبوت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔یہ خلافت مسیح موعود کی ہے۔آپ فرماتے ہیں: خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں میں وہی ہوسکتا ہے جوظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو۔۔۔۔۔۔کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اعلیٰ اور اشرف و اولی ہیں ظلی طور پر ہمیشہ (131)