قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 130
امتیازی شان رکھتا ہے۔-۷۱۱۱ درت ثانیہ کا دور اول ا ۱۷ چاہ بہشتی مقبرہ : بہشتی مقبرہ کی خوبصورتی اور زیبائش کے لئے ایک باغیچہ لگایا گیا اس کی آب رسانی کی کوئی معقول صورت نہ ہونے کی وجہ سے باغ میں ایک کنواں تعمیر کیا گیا تا کہ آب رسانی کا کام آسانی اور سہولت سے ہو سکے اس کنوئیں کی وجہ سے نہ صرف بہشتی مقبرہ کا باغیچہ سیراب ہوتا تھا بلکہ آس پاس کی بہت سی افتادہ زمین بھی کاشت ہونے لگی۔- پل بہشتی مقبرہ: - قادیان کے قصبہ سے بہشتی مقبرہ کو جاتے ہوئے رستہ میں ایک گہرا اور چوڑا جو ہر آتا ہے جو برسات کے دنوں میں بڑی نہر کا نظارہ پیش کرتا ہے اور دو تین ماہ کے لئے ناقابل عبور ہو جاتا ہے۔اس طرح بہشتی مقبرہ اور قصبہ تک پہنچنے کے لئے ایک طویل مسافت طے کرنا پڑتی تھی۔اس تکلیف کو دور کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول کے بابرکت زمانہ میں اس جو ہر پر ایک پل تعمیر کیا گیا تا کہ بہشتی مقبرہ اور ملحقہ دیہات سے سال بھر ربط قائم رہے اور آمد ورفت منقطع نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بہشتی مقبرہ کو جانے والا رستہ صرف چھ فٹ چوڑا تھا جو اس سڑک کی آمد ورفت کے مقابلہ میں بہت تنگ تھا خاص طور پر جب شہر سے کوئی جنازہ بہشتی مقبرہ لے جایا جاتا تو بہت تکلیف ہوتی۔حضرت خلیفہ اول کے عہد میں اس رستہ کو بارہ فٹ کی ایک چوڑی سڑک میں تبدیل کر دیا گیا تا کہ آمد ورفت میں آسانی ہو۔حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جماعت کی تربیت ، دعوت الی اللہ اور اشاعت قرآن کے ساتھ ساتھ قادیان مرکز احمدیت نے بھی خوب ترقی کی آپ کے چھ سالہ عرصہ خلافت میں تیار ہونے والی عمارتوں کا مختصراً اور سرسری جائزہ اوپر دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جماعت کی جملہ ضروریات پر گہری نظر رکھتے ہوئے ان کو باحسن پورا فرماتے تھے۔(130)