قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 132 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 132

قدرت ثانیہ کا دور اوّل کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔“ شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 353) اس کے علاوہ آپ نے نظام خلافت کے ضروری ہونے کے متعلق فرمایا: ”جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے۔مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے۔پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔“ (احکم 28 جولائی 1914 ) ” خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعود کے یہ ارشادات واضح ہیں اس کے بالمقابل انجمن کے قیام کا پس منظر اور اس کی پوزیشن جس کی جانشینی کا بعض افراد نے حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مطالبہ کیا ، در اصل کیا ہے حضرت صاحبزادہ محمود احمد ( جو اس انجمن کے ابتدائی ممبروں میں تھے نیز حضرت مسیح موعود کے صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے اکثر امور آپ کی وساطت سے طے پاتے تھے۔اس انجمن کے قیام کا پس منظر بیان فرماتے ہیں: حضرت صاحب کی طرف سے یہ انجمن مقبرہ کے متعلق تھی انجمن کار پرداز مصالح مقبرہ بہشتی اس کا نام رکھا گیا کہ ایسی مدخاص میں جو روپیہ آئے گا۔اس کی نگرانی کرنی پڑے گی اس کے لئے آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ مولوی نور الدین صاحب کو اس کام پر مقرر کیا۔پھر کہا گیا کہ یہ فوت ہو گئے تو پھر کیا ہو گا۔اس لئے ایسا قانون بنایا جائے کہ بعد میں کوئی فساد نہ ہو۔بعض دوستوں نے کہا کہ انجمن بنادی جائے۔پہلے ایک مدرسہ کی انجمن تھی وہی مقبرہ کے لئے مقررتھی وہی ریویو کے لئے انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ مختلف کام ہیں ان کو اکٹھا کرنے کی اجازت دیں۔آپ نے کہا اچھا اکٹھا کرلو ، یتھی تجویز نہ یہ کہ اس انجمن بنانے کی تجویز حضرت صاحب کے ذہن میں آئی اور آپ نے پیش کی اور یہاں انجمن بنائی گئی بلکہ جن لوگوں کے سپرد یہ کام تھے انہوں نے کہا کہ وقت کا (132)