قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 107
تدرت ثانیہ کا دور اول مندرجہ بالا واقعہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت خلیفہ اول کو بیت کی حرمت کا خیال نہیں تھا کیونکہ آپ بیوت کی حرمت و عزت کے بجان و دل خواہاں تھے اس کی مثال مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتی ہے۔قادیان میں ایک مسجد ارائیاں کے محلہ میں ہے اس کا ایک حجرہ فروخت ہو گیا اور کمیٹی قادیان نے اس پر عمارت بنانے کی اجازت دے دی اور باقی مسجد کی فروخت کیلئے بھی غیر از جماعت ارائیں تیار تھے مجھے مخاطب کر کے (حضرت خلیفہ اول نے ) فرمایا: وو یہ کیسے اندھیر کی بات ہے کہ مسجد فروخت ہو جائے اور اس کا کوئی انتظام نہ کیا جائے۔مجھے اس بات سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔جس طرح ہو اس مسجد کو مسجد کی صورت میں قائم رکھا جائے اور اس حجرہ کو بھی واپس لیا جائے میں اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا ان لوگوں کو سمجھاؤ اور اگر مقدمہ کرنے کی ضرورت ہو تو مقدمہ کر مسجد کی بے حرمتی میرے لئے بہت تکلیف دہ امر ہے۔“ ( الحکم 14 فروری 1912 ء ) اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ مسجد کا نپور کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی پالیسی دینی اصولوں اور تعلیم کے مطابق تھی۔(107)