قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 108 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 108

مقدرت ثانیہ کا دور اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مشابہت سید ولد آدم آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو جو سراسر ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں پڑی ہوئی دن بدن گہری تاریکی کی طرف جارہی تھی اسلامی نور اور توحید کی روشنی سے منور کیا اور انہیں روحانی تجلیوں اور ضیا پاشیوں میں اپنی عمر طبعی گزار کر رفیق اعلی سے جاملے۔اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے صفت رحمانیت سے کام لیتے ہوئے عرب کے صحرانشینوں اور بدوؤں کو بے آسرا نہ چھوڑا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس سلسلہ کو قائم رکھنے کے لئے ایک عظیم الشان نظام جاری فرمایا جسے ” خلافت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے تا کہ وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے ہیں اور ایک ہاتھ کے نیچے آچکے ہیں پھر سے منتشر ہو کر اتحاد و اتفاق کی برکت سے محروم نہ ہو جائیں۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی فتوحات کی رو میں آکر یدخلون فی دین اللہ افوا جا کے مطابق گروہ در گروہ اسلام قبول کرنے والوں کی تربیت ہو سکے اور آئندہ کے لئے اصلاح و ارشاد کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ہمارے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ثریا سے اتارنے اور قتل خنزیروکسر صلیب کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور گزشتہ پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود کے ارشادات کے مطابق آپ کے بعد بھی بعینہ اسی طرح خلافت کا نظام جاری فرمایا تا کہ آپ کے ذریعہ سے جو تخم ریزی ہوئی ہے وہ بار آور ہو۔خدا کی قدرت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اول یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت مسیح موعود کے خلیفہ اول حضرت مولانا نور الدین اعظم کی زندگیوں میں متعدد مشترک پہلو ہیں ایک ظاہر بین اس اشتراک و مشابہت کو اتفاق کہہ سکتا ہے لیکن حقیقت امر کے جاننے والوں اور غور و تدبر سے کام لینے والوں کے لئے یہ مشابہتیں ایمان افروز ہیں اور اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ قسام ازل نے ان دو عظیم الشان انسانوں کو ایک رفیع المنزلت کام کے لئے پیدا کیا تھا مثال کے طور پر چند مشابہتیں مندرجہ ذیل ہیں: (108)