قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 106 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 106

تدرت ثانیہ کا دور اوّل اخبار اس کی تائید میں ریزولیشن پاس کریں اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا کہ اگر کوئی فرقہ یا انجمن اس تحریک کو چلانے سے اس لئے پس و پیش کرے کہ اس کے محرک احمدی ہیں تو ہم اس تجویز سے دستبردار ہو جائیں گے بشرطیکہ اس فریق کی طرف سے کسی معقول انتظام کرنے کی ضمانت دی جائے۔گورنمنٹ نے بھی اس مبارک تجویز کو معقول سمجھتے ہوئے منظور کر لیا اور سلسلہ کے مخالفوں نے بھی حضور کی اس قومی خدمت کو سراہا چنانچہ اخبار الہلال نے لکھا کہ: اس اشتد ترین شکایت اسلامی پر سب سے پہلے کس طرف سے توجہ دلائی گئی۔یاد ہو گا کہ سب سے پہلے اس کی نسبت جناب مولانا نورالدین صاحب رئیس جماعت احمدیہ نے دربار دہلی کے موقعہ پر آواز بلند کی تھی ہم جناب حکیم صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں کہ اُن کی آواز کارگر ہوئی اور اگر مسلمان نماز نہ پڑھیں تو ان کے لئے ( الہلال بحوالہ الحکم 24 دسمبر 12ء ) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا۔“ 10 - مسجد کانپور اگست 1913ء میں حکومت ہند نے ایک سرکاری ضرورت کے پیش نظر مسجد کانپور کا ایک غسل خانہ گراد یا اور اس کا متبادل انتظام بھی کر دیا گیا لیکن اس معمولی سے واقعہ کو موقع پرست ہندوؤں نے ہوا دی اور مسلمانوں نے ان کے ورغلانے سے ایک شورش اور بغاوت کی صورت پیدا کر دی جس کو دبانے کے لئے گورنمنٹ نے سختی سے کام لیا اور گولی تک چلا دی جس میں بعض مسلمان مارے گئے۔مسلم پریس نے ان مارے جانے والوں کو شہید کا خطاب دے کر بغاوت کو زیادہ بھڑ کا نا شروع کر دیا۔اس موقعہ پر حضرت خلیفہ اول نے افراط و تفریط سے بچتے ہوئے فرمایا کہ فسل خانہ مسجد کا حصہ نہیں ہوتا اس لئے اس کے گرائے جانے پر اتنا شور و غوغا بپا نہیں کیا جانا چاہیے۔اور فرمایا کہ یہ اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک سچے محب وطن ہونے کی حیثیت سے گورنمنٹ کی سختی کو بھی ناروا قرار دیا اور حاکموں کو مشورہ دیا کہ وہ بے جاسختی سے کام نہ لیں۔(106)