قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 93
وو مدرت ثانیہ کا دور اول لیکن چونکہ یہ بڑا عظیم الشان کام ہے اس لئے (میں) یہ شرط لگانی پسند کرتا ہوں کہ جس نے اس کام میں حصہ لینا ہو وہ پہلے سات دفعہ استخارہ کرے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کے کام کا ذمہ دار ہو جائے۔۔۔میں نے بھی اس اعلان سے پہلے کئی دفعہ استخارہ کیا ہے اور نہ صرف خود ہی کیا بلکہ کئی ایک نیک اور صالح دوستوں سے بھی استخارہ کروایا اور کئی دوستوں و اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے بشارات بھی ہو ئیں تب جا کر یہ کام میں نے شروع کیا ہے اور استخارہ وغیرہ کرنے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح سے اجازت بھی لی ہے۔“ (الحکم 21/28 فروری 1911 ء) دعا، استخارہ اور حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے تبلیغ دین حقہ میں وسعت اور باقاعدگی کے لئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک عظیم الشان قدم اُٹھایا یعنی انجمن انصار اللہ کی بنیا د رکھی جس کا نام اپنے کار ہائے نمایاں اور دینی خدمات کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔اس مجلس کے قواعد وضوابط پر نظر ڈالنے سے بھی اس تنظیم کی غرض و غایت معلوم ہو جاتی ہے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قواعد بھی اس جگہ تحریر کر دیئے جائیں تا کہ تاریخی طور پر محفوظ ہو جائیں اور سلسلہ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس تنظیم کی غرض وغایت سے مطلع ہو سکے۔قواعد و ضوابط انحمن انصار الله :- (1) ہر ممبر کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع ( دعوت الی اللہ ) کے کام میں لگار ہے اور جب موقع ملے اس کام میں اپنا وقت صرف کریں (2) ہر ممبر قرآن شریف اور احادیث پڑھنے پڑھانے میں کوشاں رہے۔(3) ہر مبر جماعت کے افراد میں صلح و اتحاد کی کوشش میں مصروف رہے اور جھگڑے کی صورت میں خود فیصلہ کریں ورنہ حضرت خلیفہ اسیح سے رہنمائی حاصل کریں۔(4) ہر قسم کی بدظنیوں سے بچے جو اتحاد و اتفاق کو کاٹتی ہیں۔(93)