قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 92
تدرت ثانیہ کا دور اوّل انجمن کا قیام :- حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد (خلیفہ ثانی) نے فروری 1911ء میں مندرجہ ذیل رویاء دیکھا: چند دنوں کا ذکر ہے کہ صبح کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک بڑاصل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں۔اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی پتھیر وں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے؟ اور یہ کون لوگ ہیں؟ اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمد یہ ہے اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور کچی اینٹیں پکی کی جائیں۔اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے اور وسیع کیا جائے ( یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب ہتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا) (الحکم 28/21 فروری 1911ء ) صاحبزادہ صاحب نے یہ دیکھتے ہوئے کہ احمدیت کی ترقی کا کام فرشتے کر رہے ہیں یہ چاہا کہ احمدی بھی قدسی صفات بن کر اس کام میں شریک ہوں اور دعوت الی اللہ کی طرف خاص توجہ دیں تا کہ یہ کام جو ہمارا ہی ہے جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے اور اسی غرض کے لئے آپ نے انجمن انصار اللہ " قائم کی چنانچہ آپ فرماتے ہیں: وو دوسری تحریک اللہ نے میرے دل میں ڈالی ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصیت سے قرآن وحدیث اور سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کی طرف توجہ رکھیں اور افراد جماعت میں صلح اور آشتی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ممبران دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیں۔“ ( الحکم 21 / 28 فروری 1911 ء ) یہ انجمن ہمبروں کی شمولیت کی بعض شرائط کی وجہ سے دنیا بھر کی انجمنوں سے ممتاز اور نمایاں ہے مثلاً حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس انجمن میں شمولیت کی ایک یہ شرط رکھی تھی کہ (92)