قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 45
ندرت ثانیہ کا دور اوّل ” جب میں قادیان سے یہ حکم (عیسائیوں کے رد میں کتاب لکھنے کا ) لے کر اپنے وطن میں پہنچا تو وہاں میرا ایک ہم مکتب حافظ قر آن مسجد کا پیش امام تھا وہ میرے سامنے تقدیر کا مسئلہ لے بیٹھا اور اس نے اس مسئلہ کے پیش کرنے میں بڑی شوخی سے گفتگو کی۔میں حیران اس کے منہ کو دیکھتا رہا تھا کہ فرفر بولتا تھا حالانکہ مسجد کے ملاں میں اس قدر شوخی نہیں ہوتی۔جب لوگ چلے گئے تو میں نے اسے بلا کر کہا' حافظ صاحب مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ عیسائی ہو گئے ہیں۔تو اس نے کہا کہ اگر عیسائی ہو گئے ہیں تو حرج ہی کیا ہے۔میں نے کہا اپنے گرو سے ذرا مجھے بھی ملا دو چنانچہ وہ مجھے پنڈ دادنخاں لے گیا۔دریا سے اُترے تو ایک گاؤں کے نمبر دار نے کہا کہ تمہاری دعوت ہے میں نے کہا شہر سے واپس آکر دعوت کھائیں گے۔چنانچہ میں اور حافظ صاحب دونوں ایک انگریز کی کوٹھی میں جا دھمکے۔حافظ صاحب کے تو پہلے ہی واقف تھے۔پادری صاحب ملاقات کے کمرہ میں تشریف لائے۔میں نے کہا پادری صاحب میرے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے ہم مکتب ہیں اور آپ کے مرید ہو گئے ہیں۔آپ ہم کو بھی کچھ سنا ئیں۔مطلب میرا یہ تھا کہ ان کے مذہب کا پتہ چلے۔اگر وہ اس وقت اعتراض پیش کرتا تو کوئی ایک دو ہی کرتا۔کیونکہ میں نے پادری صاحب سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ لمبی بحث نہ کریں۔اپنے مذہب کا خلاصہ ہمارے مذہب کا خلاصہ اور صرف ایک اعتراض بطور خلاصہ پیش کریں۔مگر پادری صاحب کچھ ایسے مرعوب ہوئے کہ میری بات کو ٹال کر چائے بسکٹ کا انتظام کرنے لگے میں نے کہا کہ میں شہر میں چار برس ہیڈ ماسٹر رہ چکا ہوں اور یہاں میری کافی واقفیت ہے۔ہم کو چائے وغیرہ کی ضرورت نہیں آپ ہم سے گفتگو کریں میں نے حافظ صاحب کو بھی کہا کہ تم اس کو اکسا ؤ۔چنانچہ حافظ صاحب اسے علیحدہ لے گئے اور بہت دیر تک باتیں کر کے واپس آئے۔اور کہا کہ ”میں نے بہت زور لگا یا مگر یہ تو آگے چلتا ہی نہیں اور یہ کہتا ہے کہ میں ان سے زبانی گفتگو نہ کروں گا۔ہاں بعد (45)