قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 46
قدرت ثانیہ کا دور اوّل میں اعتراضات لکھ کر بھجوا دوں گا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ جب تک ان کے اعتراضات ہمارے پاس پہنچیں اور ہماری طرف سے جواب نہ ہو لے اس وقت تک بپتسمہ نہ لیں حافظ نے کہا۔ہاں یہ تو ضرور ہوگا۔میں نے پادری صاحب سے بھی کہہ دیا کہ یہ ایسا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا۔”یہ مناسب ہے۔پھر میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتا ؤ اور کون ہے جو شل تمہارے ہو انہوں نے کہا کہ ایک اسٹیشن ماسٹر ہے چنانچہ ہم اسٹیشن پر آئے اسٹیشن ماسٹر نے تو بڑی دلیری سے کہا مذہب عیسائی کا مقابلہ توکسی مذہب سے ہو ہی نہیں سکتا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ یہ تو پھنس گئے جب اسٹیشن ماسٹر نے حافظ صاحب سے سنا کہ پادری صاحب خاموش ہو گئے تو وہ حیران ہو گیا آخر اس پادری نے ایک بڑا طومار اعتراضوں کا لکھ بھیجا میں نے حافظ سے کہا کہ بتاؤ یہ کوئی ایک دن کا کام ہے؟ انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تم ہی مدت مقرر کر و حافظ صاحب نے کہا ایک برس تک کتاب چھپ کر ہمارے پاس پہنچ جائے۔میں جموں آیا۔اس زمانہ میں زلزلے بہت آئے تھے۔راجہ پونچھ کا بیٹا زلزلوں کے سبب پاگل ہو گیا تھا۔اس نے جموں کے راجہ کو لکھا کہ ہمیں ایک اعلیٰ درجہ کے طبیب کی ضرورت ہے۔چنانچہ میں وہاں گیا مجھ کو شہر سے باہر ایک تنہا مکان دیا گیا۔ایک مریض کا دیکھنا اور تمام دن وہاں تنہائی میں بائیبل اور قرآن شریف پڑھنے لگا۔ان تمام اعتراضوں کو مد نظر رکھ کر بائیبل پر نشان کرتا رہا۔پھر اس کے بعد قرآن شریف پڑھا اور نشان کرتا رہا اس کے بعد کتاب لکھنی شروع کی اور چار جلد کی ایک کتاب (فصل الخطاب لکھی ادھر کتاب تیار ہوئی ادھر راجہ کا لڑکا اچھا ہوا اب روپیہ کی فکر تھی کہ کتاب چھپے راجہ پونچھ نے کئی ہزار روپیہ دیا جب جموں آیا تو راجہ جموں نے پوچھا کیا دیا میں وہ تمام روپیہ آگے رکھ دیا۔وہ بہت ناراض ہوئے کہ بہت تھوڑا روپیہ دیا۔چنانچہ اسی وقت حکم دیا کہ ان کو سال بھر کی تنخواہ اور انعام ہماری سرکار سے ملے۔میں نے وہ روپیہ اور دو (46)