قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 13 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 13

قدرت ثانیہ کا دور اوّل اصول شاشی متنبی ، صدری اور ملاحسن وغیرہ پڑھیں۔کثرت مطالعہ و محنت سے آپ کو سہر کا مرض ہو گیا جس کے علاج کے لئے آپ نے وہاں کے مشہور اور ماہر طبیبوں کا پتا کیا تو آپ کو سر فہرست حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کا نام معلوم ہوا۔یہی آپ کی زندگی کا مفید اور عظیم الشان انقلاب تھا۔کیونکہ اس سے آپ کو علم طب سے رغبت پیدا ہوئی جس سے بعد میں ہزار ہا بندگانِ خدا مستفید ہوئے۔چنانچہ آپ رامپور سے با ارادہ لکھنو مراد آباد پہنچے جہاں آپ کا مرض بحمد للہ مہینہ، ڈیڑھ مہینہ میں دور ہو گیا۔مراد آباد میں تقریباً دو ہفتے قیام کے بعد آپ کا نپور تشریف لے گئے اور وہاں سے ہندوستان کے مشہور حاذق طبیب حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کے پاس پہنچ گئے اس واقعہ کو اختصار کی نذر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ واقعہ اپنے اندر کئی سبق آموز مفید و دلچسپ امور رکھتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں لکھنو پہنچا۔جہاں وہ گاڑی ٹھہری وہاں اترتے ہی میں نے حکیم صاحب کا پتہ پوچھا۔خدائی عجائبات ہیں کہ جہاں گاڑی ٹھہری تھی اس کے سامنے ہی حکیم صاحب کا مکان تھا یہاں ایک پنجابی مثل یاد کرنے کے قابل ہے۔دلل کرے اولیاں رب کرے سولیاں۔میں اسی وحشیانہ حالت میں مکان میں جا گھسا۔ایک بڑا ہال نظر آیا۔ایک فرشتہ خصلت دلار با حسین ، سفید ریش نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک گدیلے پر چار زانو بیٹھا ہوا، اس کے پیچھے ایک نہایت نفیس تکیہ اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے تکیے سامنے پاندان اگالدان، خاصدان، قلم ، دوات ، کاغذ دھرے ہوئے۔ہال کے کنارے کنارے جیسے کوئی التحیات بیٹھتا ہے۔بڑے خوشنما چہرے قرینے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔نہایت بزاق چاندنی کا فرش اس ہال میں تھا۔وہ قہقہہ دیوار دیکھ کر میں حیران سا رہ گیا۔کیونکہ پنجاب میں کبھی ایسا نظارہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔بہر حال اس کے مشرقی دروازے سے ( اپنا بستہ اسی دروازے میں ہی رکھ کر ) حکیم صاحب کی طرف جانے کا قصد کیا اور گرد آلود پاؤں جب اس چاندنی پر پڑے تو اس نقش و نگار سے (13)