قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 14
قدرت ثانیہ کا دور اوّل میں خود ہی مجوب ہو گیا۔حکیم صاحب تک بے تکلف جا پہنچا اور وہاں اپنی عادت کے مطابق زور سے ”السلام علیکم کہا جو لکھنو میں ایک نرالی آواز تھی یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ حکیم صاحب نے وعلیکم السلام زور سے یا دبی آواز سے کہا ہو۔مگر میرے ہاتھ بڑھانے سے انہوں نے ضرور ہی ہاتھ بڑھایا اور خاکسار کے خاک آلود ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آلودہ کئے اور میں دوزانو بیٹھ گیا۔یہ میرا دوزانو بیٹھنا بھی اس چاندنی کے لئے جس عجیب نظارہ کا موجب ہوا۔وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے جو اراکین لکھنو سے تھا۔اس وقت مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ کس مہذب ملک سے تشریف لائے ہیں۔میں تو اپنے قصور کا پہلے ہی قائل ہو چکا تھا مگر خدا شر برانگیز دکہ خیر مادراں باشد‘ میں نے نیم نگاہی کے ساتھ اپنی جوانی کی ترنگ میں یہ جواب دیا کہ۔یہ بے تکلفیاں اور السلام علیکم کی بے تکلف آواز وادی ، غیر ذی زرع کے امی اور بکریوں کے چرواہے کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی و امی۔اس میرے کہنے کی آواز نے بجلی کا کام دیا اور حکیم صاحب پر وجد طاری ہوا۔اور وجد کی حالت میں اس امیر سے کہا کہ "آپ تو بادشاہ کی مجلس میں رہے ہیں کبھی ایسی زک آپ نے اُٹھائی ہے؟ اور تھوڑے وقفہ کے بعد مجھ سے کہا کہ ” آپ کا کیا کام ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ ” میں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں اور پڑھانے سے مجھے انقباض ہے۔میں خود تو نہیں پڑھا سکتا میں نے قسم کھالی ہے کہ اب نہیں پڑھاؤں گا میری طبیعت ان دنوں بہت جوشیلی تھی اور شائد سہر کا بقیہ بھی ہو اور حق تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کے کام ہوتے ہیں۔منشی محمد قاسم صاحب کی فارسی تعلیم نے یہ تحریک کی میں نے جوش بھری اور دردمندانہ آواز سے کہا کہ شیرازی حکیم نے بہت ہی غلط کہا ”رنجانیدن دل جهل و کفارہ یمین سهل است۔اس پر ان کو دوبارہ وجد ہوا اور چشم پُر آب ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے بعد فرمایا ”مولوی نور کریم حکیم ہیں۔اور بہت لائق (14)