قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 12 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 12

تدرت ثانیہ کا دور اول کر دیں۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کو پھر لاہور آنا پڑا۔یہاں آپ نے مشہور عربی دان حکیم الہ دین صاحب سے ادب عربی پڑھی۔حضرت مولانا کو حکیم صاحب موصوف کا یہ سبق بہت مفید اور دلچسپ معلوم ہوتا تھا۔لیکن بعض ناگزیر وجوہ سے آپ کو جلد واپس بھیرہ آنا پڑا۔سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں آپ راولپنڈی تشریف لے گئے اور وہاں نارمل سکول کی تعلیم آپ کے ذمہ لگائی گئی۔اس تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے ریاضی اور اقلیدس کی تعلیم علی الترتیب شیخ غلام نبی صاحب ہیڈ ماسٹرلون میانی اور منشی نہال چند صاحب سے شروع کی اور اس کے متعلق آپ کا بیان ہے کہ ایک ایک قاعدہ ( ہر دو مضمونوں کا) سیکھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا فہم عطا کیا کہ ان علوم پر پوری طرح حاوی ہو گئے۔اور مقابلہ کے ایک امتحان میں ایسی نمایاں کامیابی حاصل کی کہ پنڈ دادن خان سکول کے صدر مدرس مقرر ہو گئے۔چار سالہ ملازمت کے دوران آپ نے عربی کی تعلیم برابر جاری رکھی اور اس کے بعد ” بگے والے قاضی مکرم مولوی احمد دین صاحب سے عربی سیکھنی شروع کی لیکن قاضی صاحب موصوف جامع مسجد بھیرہ بنانے کی دھن میں اکثر سفر پر رہتے تھے۔اس لئے حضرت مولانا نے بمشکل ایک سال ان کی معیت میں گزارا اور پھر لاہور تشریف لے گئے۔اس وقت تک حضرت مولانا صاحب نے حصول تعلیم کے لئے متعد د سفر کئے جس سے تحصیل علم کی خواہش اور شوق کا پتہ چلتا ہے یہ تمام سفر سر زمین پنجاب تک ہی محدود تھے۔اور یہاں کے علماء سے ہی آپ نے استفادہ کیا تھا۔لیکن یہاں سے آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے یعنی آپ حدود پنجاب کو اپنی علمی خواہش کے مقابلہ میں تنگ اور محدود پا کر ہندوستان کے مایہ ناز چوٹی کے علماء سے استفادہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔چنانچہ قریباً چوبیس سال کی عمر میں لاہور سے رام پور کا رُخ کیا۔کاندھلہ سے ہوتے ہوئے آپ رامپور پہنچے اور وہاں کے مشہور علماء (جو اس وقت ہندوستان بھر میں اپنی علمیت کی وجہ سے ممتاز تھے ) مثلاً مولانا حسن شاہ صاحب۔مشہور نحوی مولوی عزیز اللہ صاحب۔مولوی ارشاد حسین صاحب۔ماہر ادب مفتی سعد اللہ صاحب۔مولوی عبدالغنی صاحب اور حافظ سعد اللہ صاحب پنجابی سے مختلف علوم کی کتب مثلاً مشکوۃ ،شرح وقایہ (12)