قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 120
قدرت ثانیہ کا دور اوّل کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ اگر حضور نے کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا تو وہ بتا دے جس پر میں نے حضرت ابوبکر کو بتایا اور انہوں نے مجھے تین دفعہ مٹھی بھر کر مال دیا۔۔۔۔۔۔( بخاری کتاب الحصبه ) حضرت خلیفتہ المسیح اول نے بھی حضرت مسیح موعود کے جاری کردہ تمام کاموں کو بدستور جاری رکھا چنانچہ پیغام صلح (جس کی اشاعت سے قبل حضرت مسیح موعود وفات پاگئے تھے ) کا اعلان آپ کی وفات کے بعد لاہور میں ایک کثیر مجمع کے سامنے کیا اور اس کی بکثرت اشاعت کی۔نیز شیخ رحمت اللہ تاجر لاہور سے حضرت مسیح موعود نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ان کی کوٹھی کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھیں گے لیکن کوٹھی کی بنیادرکھنے سے قبل آپ اپنے مالک حقیقی سے جاملے تو حضرت خلیفہ اول نے باوجود اس پالیسی پر کار بند ہونے کے کہ ہمیشہ مرکز میں ہی قیام رکھیں گے محض اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور شیخ صاحب مذکور کی کوٹھی کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کے بعد یہ اظہار بھی فرمایا کہ یہ کام آپ نے محض حضرت مسیح موعود کا وعدہ پورا کرنے کے لئے اختیار کیا تھا چنانچہ آپ نے اس تقریب کے خاتمہ پر حضرت عرفانی صاحب ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا: دو شیخ صاحب کو کہہ دو کہ ہم آپ کے کام سے فارغ ہو چکے اور حضرت صاحب کے وعدہ کو خدا کے فضل سے پورا کر چکے اب ہم آزاد ہیں خواہ صبح کو چلے جائیں یا شام کو “ (احکام 14 جولائی 1912 ء ) 12 - حضرت ابوبکر اپنی گونا گوں خوبیوں اور صفات حسنہ نیز اسلام کی بیش بہا خدمات کی وجہ سے جن کا معمولی ساذ کر ضمنا مندرجہ بالا واقعات میں آیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تمام متبعین (جن میں ایک سے بڑھ کر جان شار تھا) میں سے سب سے زیادہ پیارے اور محبوب تھے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : ترجمہ : یعنی ابوبکر کی رفاقت اور مال سے مجھے سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے اور اگر میں کسی کو (120)