قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 121
تدرت ثانیہ کا دور اوّل خلیل بناتا تو وہ ابوبکر ہی ہے۔(ترمذی ابواب المناقب) اب دیکھتے ہیں کہ حضرت صاحب کو کون سا مرید سب سے پیارا ہے۔ایک دفعہ حضرت اماں جان اور بعض دوسری خواتین میں یہ بات ہوئی کہ بھلا حضرت اقدس کو سب متبعین میں سے زیادہ کون محبوب ہے اس پر حضرت اماں جان نے فرمایا کہ میں حضور سے کچھ بات کروں گی جس سے اس بات کا پتہ چل جائے گا۔حضرت اماں جان حضرت اقدس کے پاس کمرہ میں تشریف لے گئیں اور حضور کو مخاطب کر کے فرمانے لگیں کہ ” آپ کے جو سب سے زیادہ پیارے مرید ہیں وہ۔۔۔۔۔۔اتنا فقرہ کہہ کر حضرت اماں جان چپ ہو گئیں اس پر حضرت اقدس نے نہایت گھبرا کر پوچھا ”مولوی نورالدین صاحب کو کیا ہوا جلدی بتاؤ۔اس پر حضرت اماں جان ہنسنے لگیں اور فرمایا ”آپ گھبرائیں نہیں مولوی نور الدین صاحب اچھی طرح ہیں میں تو آپ کے منہ سے یہ بات کہلوانا چاہتی تھی کہ آپ کے سب سے پیارے مرید کون سے ہیں چنانچہ آپ نے وہ بات کہہ دی اب میں جاتی ہوں آپ اپنا کام کریں۔(لطائف صادق صفحہ 12-13) یہ بارہ مشابہتیں محض سرسری اور موٹی موٹی مثالیں ہیں ورنہ بنظر غور مطالعہ کرنے سے ان دو عظیم الشان ہستیوں کی زندگیوں میں ایک گہرا اور مسلسل اشتراک ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بزرگوں کو ایک ہی عظیم الشان کام کے لئے پیدا کیا تھا یعنی حضرت ابوبکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر قوم کو سہارا دے کر مسلسل ترقی و رفعت کی طرف گامزن کرنا تھا اور حضرت حکیم الامت نورالدین نے بھی وفات مسیح کے بعد یعنی مظہر قدرت اول کے بعد دائمی وعدہ کی پہلی کڑی اور ” قدرت ثانی کا مظہر اول بن کر احمدیت میں نظام خلافت کو مستحکم کرنا تھا۔(121)