قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 112
تدرت ثانیہ کا دور اوّل لئے مباح قرار دے دیا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔۔۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے دعا فرمائیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو “ (مکتوب بنام حضرت مسیح موعود از ازالہ اوہام ) 3: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کو آپ کا جانشین منتخب کیا گیا باوجود اس کے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار یا عزیز نہیں تھے۔بلکہ آپ اپنے علم تقوی ، زہد بے غرضی ، بے لوٹی ،حلم ، معاملہ نہی ، عاقبت اندیشی اور دیگر صفات حسنہ کی وجہ سے آپ کے خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی حضرت مسیح موعودؓ کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ و قرابت نہ رکھتے تھے بلکہ آپ بھی مذکورہ بالا صفات حسنہ سے متصف ہونے کی وجہ سے خلافتِ اولی کے مستحق قرار پائے۔:- حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات پر صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر کو آپ کی فضیلتوں اور خوبیوں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین منتخب کیا اس موقع پر حضرت ابوبکر نے ایک نہایت فصیح و بلیغ اور حسب حال تقریر فرمائی جس میں منجملہ اور باتوں کے فرمایا: ترجمہ:۔میں تو کبھی بھی امارت کا خواہش مند نہ تھا نہ کبھی میں نے اس کی دعا کی تھی میں تو اس ذمہ داری سے ڈرتا ہی تھا۔میرے لئے اس سرداری میں کوئی آرام و راحت نہیں ہے۔مجھ پر بہت بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے بغیر اُٹھایا نہیں جاسکتا۔حضرت خلیفہ اول نے بھی جماعت احمدیہ کے متفقہ خلیفہ منتخب ہونے پر بالکل اسی قسم کے (تاریخ الخلفاء صفحہ 52,51) (112)