قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 111
تدرت ثانیہ کا دور اوّل کے بعد آپ قادیان تشریف لے آئے تو بھی آپ نے ایک حبہ جمع نہ کیا بلکہ ساری آمد حضرت مسیح موعود کے مشن کی تکمیل اور خدمت خلق میں صرف کر دی جیسا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ”مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور للہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولا میں اُٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جنکے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب للہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھے مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 407) پاس نہیں ہے۔“ اسی طرح آپ ایک اور موقع پر فرماتے ہیں : ترجمہ :۔ان سے زیادہ کسی کے مال نے مجھے فائدہ نہیں پہنچایا اور ایسی قربانی آپ مسلسل کئی سالوں سے کر رہے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 582) حضرت ابوبکر کے جذبہ انفاق مال کو دیکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مال میں اپنے مال کی طرح تصرف کرتے تھے ( تاریخ الخلفا) اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ حضرت ابوبکر اپنے مال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مباح قرار دیتے تھے چنانچہ فرماتے ہیں۔ترجمہ:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری سب سے زیادہ مالی مدد ابوبکر نے کی ہے اس پر حضرت ابوبکر رونے لگے اور فرمایا میں اور میر امال سب حضور ہی کا ( احمد بن حنبل جزا بوہریرہ ) ہے۔اسی طرح حضرت مولانا نورالدین صاحب نے بھی اپنا مال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے (111)