قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 113
قدرت ثانیہ کا دور اوّل جذبات و خیالات کا اظہار کیا چنانچہ آپ نے نہایت رفت بھرے لہجہ میں فرمایا: ” میرے دل کے کسی گوشہ میں کبھی اس امر کا خیال خواہش یا واہمہ نہیں تھا کہ یہ کام میرے سپرد کیا جائے میں چاہتا تھا کہ حضرت کا صاحبزادہ مرزا محمود جانشین بنتا۔میں ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ یہ بوجھ مجھ پر ڈالا جاتا کیونکہ میں اپنے میں اس کے اُٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن جبکہ بلا میری خواہش کے یہ بار میرے گلے میں ڈالا جاتا ہے اور دوست مجھے مجبور کرتے ہیں تو اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میں قبول کرتا ہوں۔( تقریر حضرت خلیفہ اول بدر 2 جون 1908 ء ) 5:۔حضرت ابوبکر نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد بھی اپنے رفاہی اشغال حسب معمول جاری رکھے اور ان میں وقفہ نہ پڑنے دیا نیز آپ کسب معاش کے لئے ایک عرصہ تک حسب معمول تجارت کرتے رہے۔عطابن السائب فرماتے ہیں۔ترجمہ:- جب حضرت ابوبکر کی بیعت ہوئی تو اگلے روز آپ کپڑا اُٹھائے ہوئے مارکیٹ کی طرف جارہے تھے۔(حسب معمول کاروبار کی خاطر ) (ابن سعد بحوالہ تاریخ الخلفا ) اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الاول نے بھی اپنے خدمت خلق کے اشغال بدستور جاری رکھے چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں : اس وقت آپ کی دن کی نشست مسجد مبارک میں ہوتی تھی مگر چونکہ بیمار بھی آپ کی توجہ کے محتاج ہوتے تھے اور بیماروں کا مسجد میں جمع ہونا مناسب نہ تھا اس واسطے آپ نے کچھ عرصہ کے بعد پھر اپنے مطب میں بدستور بیٹھنا شروع کر دیا۔“ (حياة نورالدین صفحہ 158 ) 6- حضرت ابوبکر کی زندگی کا سب سے عظیم الشان کارنامہ ” جمع قرآن“ ہے یعنی قرآن مجید جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جا بجا لکھا ہوا تھا آپ نے اسے اپنی نگرانی میں ایک صحیفہ میں جمع کروایا۔عالم اسلام پر آپ کا یہ عظیم الشان احسان ہے۔کیونکہ آپ نے وقت پر ایک اہم (113)