قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 10
قدرت ثانیہ کا دور اوّل یک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے سچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے میں یقینا دیکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو۔جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے۔تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ان کو خدا تعالیٰ نے قوی ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔اور طاقت بالا نے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے۔انہوں نے ایسے وقت میں بلاتر ڈر مجھے قبول کیا جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا۔اور بہتیرے ست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں۔قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔آمَنَّا وَصَدَّقنا فاكتبنا مَعَ الشَّاهِدِین۔۔۔مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں مولوی صاحب پہلے راستبازوں کا ایک نمونہ ہیں۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص 520) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور متعدد مقامات پر حضرت مولانا کے متعلق ایسے ہی تعریف و توصیف کے الفاظ استعمال فرمائے۔حضرت مولوی صاحب بھی اپنی فدائیت اور خدمت دین میں ترقی کرتے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود کی خلافت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔اس تمہید کے بعد حضرت مولانا کی خوبیوں اور صفات کی مثالیں اور وضاحتیں تو پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر اس میں کسی اضافہ کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔(10)