قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 11 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 11

قدرت ثانیہ کا دور اول حضرت خلیفہ اول کی مختصر سوانح حاجی الحرمین الشریفین حضرت مولانا خلیفہ مسیح الاول 1841ء بمطابق 1258 ضلع شاہ پور ( حال ضلع سرگودھا) کے ایک مشہور قصبہ بھیرہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا اسم گرامی حضرت حافظ غلام رسول صاحب تھا۔آپ کے جد امجد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ علیہ کے بھائی تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت نور بخت صاحبہ تھا۔حضرت خلیفہ اول (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) اپنے والدین کے نویں اور آخری بچے تھے۔خوش قسمتی سے آپ کی والدہ قرآن مجید اور حدیث وفقہ کے ابتدائی امور سے بخوبی واقف تھیں قرآن مجید کی معلمہ تھیں اس لئے بچپن میں ہی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ والدہ صاحبہ کی گود سے ہی آپ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آپ نے اپنی والدہ مکرمہ سے قرآن مجید اور حدیث وفقہ کی ابتدائی کتا ہیں پنجابی زبان میں پڑھیں کچھ حصہ قرآن مجید کا اپنے کثیر المشاغل اور عدیم الفرصت والد محترم سے بھی پڑھا۔1853ء میں آپ حصول تعلیم کی غرض سے اپنے بھائی مکرم مولوی سلطان احمد صاحب کے پاس لا ہور تشریف لے گئے۔جہاں آپ کو خناق کا مرض لاحق ہو گیا جس کا علاج پنجاب کے مشہور حکیم غلام دستگیر صاحب نے کیا۔بعد ازاں وہاں آپ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور فارسی اور خوش خطی کی تعلیم کے لئے منشی محمد قاسم صاحب کشمیری اور مرزا امام دیروی صاحب کے تلامذہ میں شامل ہو گئے لیکن ذاتی رجحان نہ ہونے کی وجہ سے آپ ان ہر دو بزرگوں سے کوئی خاص استفادہ نہ کر سکے۔1855 میں آپ واپس اپنے وطن تشریف لے آئے۔فارسی تعلیم کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہا لیکن جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔فارسی سے طبعی لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ جلد ختم ہو گیا۔اسی زمانہ میں آپ کے بھائی مکرم مولوی سلطان احمد صاحب لاہور سے بھیرہ تشریف لے آئے اور خود عربی کی تعلیم دینی شروع کر دی۔اس کے ساتھ ہی آپ نے ترجمہ قرآن مجید تقویۃ الایمان اور مشارق الانوار بھی پڑھنی شروع (11)