قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 9
قدرت ثانیہ کا دور اوّل جامع الخیرات دنیوی لذات سے بہت دور، بھلائی اور نیکی کے کسی موقع کو ضائع نہ کرنے والا۔وہ پسند کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خاطر اپنا خون پانی کی طرح بہادیں اور اپنی جان اس راہ میں قربان کر دیں اور دین میں فتنوں کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنا آپ قربان کر دیں۔“ ( حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 180 ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا: مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور اللہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اُٹھا دیا اور اپنے لئے دنیا میں کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی۔یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے۔اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔۔۔خدا تعالیٰ اس خصلت اور ہمت کے آدمی اس امت میں زیادہ سے زیادہ کرے۔آمین ثم آمین۔چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے ایک اور مقام پر حضور فرماتے ہیں: نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد 4 ص407) ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں اس کی کوئی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔اگر چہ ان کی روزمرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر (9)