قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 110 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 110

قدرت ثانیہ کا دور اوّل 2:۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور پیارے بندوں کو اپنے رستہ میں جان و مال کی قربانیوں کا موقع دے کر منازل سلوک میں سے گزارتا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی خاطر جملہ صحابہ کرام سے بڑھ کر مالی قربانیوں کا موقع ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ترجمہ :۔ہم پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا جس کا ہم نے برابر بدلہ نہ دے دیا ہو سوائے ابوبکر کے اس کا ایسا احسان ہے کہ خدا تعالیٰ ہی بروز قیامت بدلہ عطا فرمائے گا۔مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابو بکر کے مال نے۔۔۔66 ( ترمذی مناقب ابوبکر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے علاوہ حضرت عمرؓ کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی ہوسکتا ہے: ترجمہ:۔حضرت عمر بن الخطاب فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی قربانی کی تحریک فرمائی۔میں اس وقت مالی لحاظ سے بہتر تھا۔اس لئے میں نے سوچا کہ آج تو میں ابوبکر سے آگے بڑھ جاؤں گا۔چنانچہ میں نے اپنے مال کا آدھا حصہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا اور حضور کے دریافت کرنے پر بتایا کہ میں اپنا اتنا ہی مال پیچھے چھوڑ آیا ہوں مگر حضرت ابوبکر اپنا سارا مال خدا کے رستہ میں پیش کرنے کے لئے لے آئے اور حضور کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں اللہ اور رسول کا نام پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔اس پر مجھے یہ کہنا پڑا کہ بخدا میں اس شخص سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔( ترمذی مناقب ابوبکر) آپ کی تمام زندگی اسی قسم کی عظیم الشان مالی قربانیوں میں گزری۔حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے انفاق مال کا خاص موقع عطا فرما یا کشمیر میں آپ کی ہزار، پندرہ سو روپے ماہوار کی آمد تھی جو سب فی سبیل اللہ خرچ ہوتی تھی اس (110)