قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 109 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 109

قدرت ثانیہ کا دور اول 1۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اول المصدقین ہونے کا قابل صدر شک مقام حاصل فرمایا یعنی آپ نے بغیر کسی توقف کے انشراح صدر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا۔چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابوالدرداء کی روایت ہے کہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم هل انتم تارکون لی صاحبى انى قلت ايها الناس انى رسول الله عليكم جميعا فقلتم كذبت و قال ابوبکر صدقت۔اسی طرح ابن عساکر، طبرانی ، ترمذی، ابن حسان اور امام شعبی نے بھی حضرت ابو بکر کو اول من اسلم سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا قرار دیا ہے۔حضرت مولانا نور الدین صاحب کو بھی خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود پر سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف بخشا اور آپ نے حضرت مسیح موعود کے دعوی پر ایک لمحہ کے لئے بھی تردد نہ کیا اور براہین احمدیہ کے ابتدائی حصہ کو پڑھتے ہی صدق دل سے آپ کے جملہ دعاوی کو تسلیم کیا چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : وو انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردد مجھے قبول کیا جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے سست اور متذبذب ہو گئے تھے تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے:امنا و صدقنا فاكتبنامع " الشاهدين۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص521) پھر لدھیانہ کے مقام پر مارچ 1889ء میں پہلے دن کی بیعت میں پہلے نمبر پر بیعت کر کے حضرت صدیق اکبر ابوبکر کی طرح منفرد اور نمایاں امتیازی شان حاصل کر لی۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشنده (109)