قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 85 of 365

قسمت کے ثمار — Page 85

کر دیا ہے۔پروپیگینڈا ایک فن بن چکا ہے اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آج کل جنگیں میدان جنگ میں اسلحہ کے زور پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے دور دراز بظاہر غیر متعلق جگہوں پر پراپیگنڈا کے زور سے جیتی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کل جنگوں کو جو یقیناً اپنی بالا دستی منوانے کیلئے ہی ہوتی ہیں مختلف تہذیبوں کی جنگ قرار دے کر مخالفوں کو اعصاب شکن حالات میں دھکیل کر جیتی جاتی ہیں یا جیتنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔مسلمان اپنے اسلامی تمدن پر بجا طور پر نازاں ہیں مگر اس تمدن کو مختلف ناموں سے تبدیل کرنے بلکہ مسخ کرنے کی ناپاک کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور زیادہ قابل فکر صورت یہ بن جاتی ہے کہ احساس کمتری کی وجہ سے خود مسلمان بھی بعض دفعہ اپنے اسلامی تشخص اور تمدن کو پچھلے زمانوں کی چیز سمجھ کر قابل ترک اور قابل نفرت سمجھنے لگتے ہیں مگر یہ وہی صورت ہے جس کی وجہ سے عیسائیت کی شکل تبدیل ہو کر اس کی جگہ مشرکانہ رسم ورواج نے لے لی۔ہمارا تمدن ، ہماری عائلی زندگی ، ہماری معیشت بہت ہی بابرکت اور سکون بخش ہے۔اس کی موجودگی میں ہم خدا اور رسول کے احکامات کے مطابق بہتر زندگی بسر کر کے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے مغربی تمدن یا کسی اور طریق کی نقالی سے پوری طرح بیچنے کی کوشش کی جائے۔حضرت مصلح موعود بنایا نہ اسلامی تمدن پر کار بند رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔۔۔اے قوم! میں ایک نذیر عریاں کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔جس خدا نے مسیح موعود مالی شام کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا ، نہ چھوڑنا ، نہ چھوڑنا، آہ نہ چھوڑنا۔میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں اسلام کا ہر حکم ناقابل تبدیل ہے۔خواہ چھوٹا ہو، خواہ بڑا ہو۔جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔وہ اسلام کی تبدیلی کی 85