قسمت کے ثمار — Page 86
بنیا درکھتا ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا۔۔۔یورپ کے لئے تو اسلام قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے۔ہمارا فرض یہ ہے ہم دیکھیں وہ ایسی صورت سے اسلام قبول کرے اسلام ہی کو نہ (روز نامہ الفضل 20 رمئی 1924ء) بدل دے۔“ الفضل انٹرنیشنل 18 جون 2004 00 ایک بری عادت۔بخل بخل ایک ایسی عادت ہے جو انسان کو نیکی اور ترقی کے مواقع سے استفادہ کرنے سے محروم کر کے برائیوں اور بدیوں کے ایسے پھسلنے والے راستہ کی طرف دھکیل دیتی ہے جو قعر مذلت کی طرف لے جاتا ہے۔بخیل عام طور پر اسے کہا جاتا ہے جو اپنا مال صبح موقع اور صحیح مصرف پر خرچ کرتے ہوئے بھی خوشی محسوس نہ کرے اور اسے اپنے مال کے خرچ ہونے سے تکلیف ہو۔اسی طرح وہ شخص بھی بخیل ہے جو اپنی خدادادصلاحیتوں اور قابلیتوں کو دوسرے بھائیوں اور عزیزوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال نہیں کرتا یا ان کو اس فائدہ سے جو وہ حاصل کر سکتے ہوں محروم رکھتا ہے۔اگر بخیل اپنے بخل کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال کو اسی کے رستہ میں خرچ کرنے سے رکا رہتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایک ایسی نیکی سے محروم کر لیا جو اور نیکیوں کی طرف لے جانے والی تھی اور قرآنی محاورہ کے مطابق جس سے کئی سو گنا فوائد حاصل ہونے تھے۔بخل کا یہ پہلو بھی قابل غور اور قابل توجہ ہے کہ بخیل اگر وقتی طور پر چند پیسے بچا بھی لے گا تو بعد میں 86