قسمت کے ثمار — Page 223
ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔لیکن ایک فرقے کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔صحابہ بنی ھم نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے ؟ تو حضور صلی ہم نے فرمایا دہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ بنی ہندہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔جماعت کے خلاف اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی گئی اور جسے غلط اور ناجائز طریق اختیار کرتے ہوئے سراسر تحکم سے منظور کروایا گیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہتر فرقوں نے یکجا ہوکر جس ایک فرقہ کو الگ کر کے اسے تہتر واں فرقہ قرارد یاوہ جماعت احمدیہ تھی اور حضور علیہ السلام کے فیصلہ کے مطابق یہی جماعت ناجی ہے اور باقی بہتر فرقوں نے خود اپنے ہاتھ سے ایک ایسے فیصلہ کی تصدیق کی جس کے مطابق وہ دوزخی قرار پاتے ہیں۔کیونکہ حضور ای سی ایلم کے ارشاد اور فیصلہ کے خلاف کسی بھی فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں۔چنانچہ ان بہتر کی حالت موجودہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ وہ کیسی کیسی آگوں میں جل رہے ہیں اور امن اور سلامتی ان کے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔نہ صرف ان کے گھر بلکہ ان کی عبادتگاہیں بھی ان آگوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔دیکھو انہیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔الفضل انٹرنیشنل 23 ستمبر 2005ء) 223