قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 222 of 365

قسمت کے ثمار — Page 222

ائمہ کفر کو فاتح قادیان کے لقب سے یاد کر کے مخالف لوگ خوش بھی ہوتے ہیں۔مگر اُن کا حق وصداقت سے حسد کی آگ میں جلنا اور مخالفت کا ختم نہ ہونا بتا تا ہے کہ وہ اپنے دعاوی میں جھوٹے تھے اور انہیں خوب پستہ تھا کہ وہ غلط بات کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ 1953ء میں بھی مخالفت کی آگ پھر سے بھڑ کائی گئی اور یہ تکفیر بازی اور مخالفت اتنی گہری سازش کا نتیجہ تھی کہ خود ائمہ تکفیر کے خیال میں اس کے بعد احمدیت صفحہ ہستی سے ختم ہو جاتی۔مگر دنیا جانتی ہے اور تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ نے بھی یہی بتایا ہے کہ سیاسی میدان میں مات کھا جانے والے اور پاکستان کی مخالفت کرنے والوں نے آنحضرت صلی ای ام اور اسلام کے نام پر ایک چور دروازے سے سیاست میں داخل ہونے اور اپنی دکان چمکانے کے لئے یہ دھندا شروع کیا تھا۔جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف قائم رہی بلکہ پاکستان اور بیرون پاکستان میں جماعت کی ترقی میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہو گیا۔1974ء میں بھی جماعت کے خلاف بہت منظم طریق پر پاکستان میں مذہبی اداروں نے سیاسی لیڈروں کو ساتھ ملاتے ہوئے پاکستان کی پارلیمنٹ سے ایسا قانون منظور کروایا جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر یہ سمجھا گیا کہ اب ان کی ترقی کے تمام راستے مسدود ہو گئے ہیں اور مخالف جو مذہبی میدان میں پوری طرح شکست سے دو چار ہو چکے تھے اس غیر مذہبی طریق پر چلتے ہوئے اپنی خفت و شرمندگی کو چھپا سکیں گے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ان کی اس حرکت سے جماعت کو اپنی صداقت کی ایک نہایت واضح دلیل مل گئی۔آنحضرت سلائی سی ایم نے آخری زمانے میں اختلاف امت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا: حضرت عبد اللہ بن عمر بنی یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اسلام نے فرمایا کہ میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے۔جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی اپنے 222