قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 338 of 365

قسمت کے ثمار — Page 338

پر آرہی تھی۔جماعت کے آخری بینچ پر مجھے اخویم عبدالرحیم صاحب دیانت (حال درویش قادیان) کے ساتھ جگہ ملی تھی۔جماعت اول کے اساتذہ میں محترم قاری غلام یاسین صاحب قرآن پڑھاتے تھے۔محترم مرزا برکت علی صاحب حساب پڑھاتے تھے۔محترم ماسٹرمحمد طفیل صاحب انگریزی پڑھاتے تھے اور محترم مولوی محمد جی صاحب صرف نحو پڑھاتے تھے۔محترم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ ( حال امیر جماعت احمدیہ قادیان) عربی ادب پڑھاتے تھے۔مجھے یاد آیا کہ موخر الذکر استاد مولوی عبد الرحمان صاحب نئے نئے فارغ ہو کر مدرسہ میں مقرر ہوئے تھے۔ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی ہوتی تھی۔دروازہ سے داخل ہوتے ہی از راہ شفقت طالب علم سے چھڑی لگا کر حال پوچھتے تھے۔حسن اتفاق کی بات کہ میرا اور مکرم عبدالرحیم صاحب کا بنچ دروازے کے ساتھ پہلا بنچ تھا اس لئے شفقت کا آغاز وہیں سے ہوتا۔تمام اساتذہ محبت اور محنت سے پڑھاتے تھے۔آج بھی ان محبتوں کو یاد کر کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔۔۔اس زمانے کے اساتذرہ طلباء کو مدرسہ کے وقت کے علاوہ بھی پڑھانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔چنانچہ مولوی عبد الرحمن صاحب یہ دیکھ کر کہ میں ذرا تاخیر سے آیا ہوں بورڈنگ ہاؤس میں۔۔بھی مجھے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔میں یہ باتیں اپنے مدرسہ کے ابتدائی ایام کی لکھ رہا ہوں۔“ (الفرقان نومبر 1967 ء ) حضرت مولانا صاحب اپنے والدین کے قبول احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ” میرے والدین میری ولادت سے دو تین سال پیشتر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے۔دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔میرے خاندان میں 338