قسمت کے ثمار — Page 337
ہے کہ ہماری شاعری یہ سکھاتی ہے کہ اگر کوئی بد تحریک کرے تو اسے ضرور قبول کرو کیونکہ یہ وفا ہے اور اگر بد تحریک کو قبول نہیں کرو گے تو بے وفا بن جاؤ گے یہ حصہ بھی قابل اصلاح ہے۔۔لیکن ایک بہت بڑا نقص ہماری شاعری میں یہ ہے کہ وہ مایوسی پیدا کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ ظالم ہے اور تم مظلوم اور اب تمہارا یہی کام ہے کہ اس کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے جاؤ اور کبھی کامیابی کی امید نہ رکھو۔“ روزنامه الفضل ربوہ 15 ستمبر 1996ء) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری حضرت استاد مولانا ابوالعطاء جالندھری میدان خطابت وصحافت کے شاہسوار، دینی علوم اور زبان عربی کے بے بدل ماہر، مشہور مناظر اور عالم باعمل تھے، آپ کی سیرت سوانح پر یہ کتاب بہت مفید اور دلچسپ امور پر مشتمل ہونے کے علاوہ ایک عہد کی تاریخ کو بیان کرتی اور بہت سی خوشگوار یادوں کو تازہ کرتی اور بتاتی ہے کہ مسلسل محنت کوشش اطاعت اور دعاؤں کی برکت سے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والا بچہ خالد احمدیت کے قابل رشک مقام پر پہنچ جاتا ہے۔اپنے زمانہ طالب علمی کی ابتدائی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت والد صاحب مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرنے کے چند روز بعد گاؤں واپس تشریف لے گئے۔میں کچھ عرصہ مہمان خانہ میں رہا پھر بورڈنگ میں داخل ہو گیا۔میں چونکہ مدرسہ احمدیہ میں ایک ماہ بعد آیا تھا اس لئے طبعی طور پر ساتھیوں سے پیچھے تھا۔نیز گھر سے دوری کی باعث اداس بھی تھا۔اس لئے ابتدا میں مجھے دقت پیش 337