قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 307 of 365

قسمت کے ثمار — Page 307

مکرم سردار مقبول احمد صاحب ذبیح معمول کے مطابق سحری کے لئے اٹھے۔نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد کھانا کھایا اور عام طریق کے مطابق سائیکل پر اپنے روزمرہ کے فرائض کی ادائیگی کیلئے دفتر چلے گئے۔دفتر میں ساتھیوں سے روز مرہ کی گفتگو ہوئی کسی سے بات کرتے ہوئے اسے جزاکم اللہ کہا۔کرسی کی ٹیک سے الگ کر آرام سے بیٹھ گئے اور اسی طرح آرام وسکون سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔کوئی دوائی نہیں کوئی ڈاکٹر نہیں کوئی ہائے اوئی نہیں۔مجھے یقین ہے کہ انہیں صبح دعا کے وقت قبولیت کا خاص موقع میسر آیا ہوگا اور انہوں نے اپنے خاتمہ بالخیر کی بھی دعا ضرور کی ہوگی جو ایسا قابل رشک انجام میسر آیا۔جنازہ اور تدفین کے وقت بزرگان سلسلہ اور احباب کی کثرت بھی میرے اس یقین کو اور تقویت پہنچاتی ہے کہ انہوں نے انجام بخیر کی ضرور دعا کی ہوگی جو قبول بھی ہو گئی۔یہ ذکر برادرم سردار مقبول احمد ذبیح کا ہے۔ہم مدرسہ احمدیہ اور پھر جامعہ احمدیہ میں ہم جماعت تھے۔آپ بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے سیدھی اور سچی بات کہنے میں کبھی تامل نہ کرتے۔اسی وجہ سے بعض دفعہ یہ بھی شبہ گزرتا تھا کہ آپ جلدی سے ناراض ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ میہ ان کا بات کرنے کا مخصوص انداز تھا ورنہ میں تو ان کی پرانی اور قریبی واقفیت کی بنا پر وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی کے خلاف بغض و کینہ یا حسد پالنے کی استعداد عطا نہیں کی تھی۔307